بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

چیف جسٹس کیخلاف نازیبا زبان کا استعمال، پیپلزپارٹی رہنما کا معافی نامہ مسترد

میرے 2 بیویاں اور7 بچے ہیں، اکیلا کمانے والا ہوں، عدالت کے پاؤں پکڑتا ہوں،مسعود الرحمان

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کےخلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے پیپلزپارٹی کے رہنما مسعود الرحمٰن کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 4 رکنی بینچ نے توہین آمیز بیان کی ویڈیو پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت مسعود الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرے 2 بیویاں اور7 بچے ہیں، اکیلا کمانے والا ہوں، عدالت کے پاؤں پکڑتا ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے تھے کہ عدالت بلائے تو اوقات یاد دلاؤں گا، عدالت نے بلا لیا ہے اب ہمیں اوقات دکھائیں۔

ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز سمیت تمام کیسز کا بھی جائزہ لیں گے۔مسعود الرحمٰن نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے تحریری طور پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتوں اور اداروں کا احترام کرتے ہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو گفتگو آپ نے کی وہ کس کو متاثر کرنے کے لیے تھی؟ ایف آئی اے کھوج لگائے کس کے کہنے پر تقریر کی گئی، سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر ایسی تقریر ممکن نہیں۔

رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ والدہ کی وفات اور گھریلو جھگڑوں سے پریشان ہوں، پریشانی کی وجہ سے معلوم نہیں تھا کیا بول دیا۔

معافی نامے میں رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ججز والد کے درجے کے برابر ہیں مجھے معاف کر دیں، جس طریقے سے عدالت حکم دے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ سب کچھ بڑی بڑی باتیں کرنے سے پہلے سوچنا تھا، چیف جسٹس پر حرام کی کمائی کا الزام کیسے عائد کیا؟ کس بنیاد پر چیف جسٹس کو سیکٹر انچارج کہا؟

انہوں نے مزید کہا کہ آپ کو ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کا تو بخوبی علم تھا، چیف جسٹس کا ایٹم بم اور میزائل سے کیا تعلق؟ ایسے تو ہر کوئی توہین آمیز تقریر کرکے معافی مانگ لے گا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا، اب شواہد کی ضرورت نہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button