بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا، اسد قیصر

پورے ایوان کو معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی تجویز ہے جبکہ کمیٹی بنا کر بھی افغانستان کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے،سپیکر قومی اسمبلی

پاکستان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے اسپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ بجٹ اجلاس کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی امیر حیدر ہوتی کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کو بے توقیر کرایا جا رہا ہے، افسوس سےکہناپڑتاہےکہ آج وزیرستان ،سکھر، سیالکوٹ کی نمائندگی نہیں، اگر یہ عوامی نمائندےاس پارلیمان میں ہوتےتواپنے عوام کی نمائندگی کر لیتے۔

انہوں نے کہا کہ جب این ایف سی کی بات ہوتی ہےکہاجاتا ہےکہ 18ویں ترمیم نے صورتحال خراب کر دی، این ایف سی ایوارڈ کے معاملات پر حکومت کا کردار افسوسناک ہے، 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھاکہ خدانخواستہ اگرافغانستان دوبارہ خانہ جنگی کی طرف بڑھا تو حالات ادھر بھی اور ادھر بھی نقصان دہ ہوں گے، امریکاکو اڈے نہ دینا بہت اچھا اقدام ہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردوں کی آمد و رفت نہ ہوں۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلہ اسد قیصر نے معاملے کو اہم قرار یا اور کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر ان کیمرہ اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے، افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا اور اس کے بعد کی پالیسی اہم معاملہ ہے، بجٹ اجلاس کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

اسپیکر کا کہنا تھاکہ پورے ایوان کو معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی تجویز ہے جبکہ کمیٹی بنا کر بھی افغانستان کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button