بسم اللہ الرحمن الرحیم

علاقائی

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے سیکٹرز متاثرین کو معاضوں کی ادائیگی کافیصلہ جاری


 حکومت کو زمین حاصل کرنے کے لیے پالیسی بنانے کا حکم، متاثرین کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کیا جائے
متاثرین کو جائیداد کا معاوضہ فراہم کرنا سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے، معاوضہ ادا کرنے میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی
سیکریٹری داخلہ یہ عدالتی فیصلہ 2ہفتے میں وزیر اعظم اور کابینہ کے سامنے رکھیں،حکومت تحقیقات کر کے متاثرین کو پلاٹ نہ دینے والے افسران کا تعین کرے
 2010میں طے کردہ معاوضہ اب قابل عمل نہیں رہا ہے اس لیے نئی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں،65 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ


اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے)کے سیکٹرز کی تعمیر کی وجہ سے متاثر ہونے والے شہریوں کو معاضوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سی ڈی اے کے سیکٹرز کی تعمیر سے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا حکم دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں 35 مختلف درخواستوں پر 65 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔عدالت عالیہ نے حکومت کو زمین حاصل کرنے کے لیے پالیسی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ متاثرین کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کو جائیداد کا معاوضہ فراہم کرنا سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ معاوضہ ادا کرنے میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ سیکریٹری داخلہ یہ عدالتی فیصلہ 2 ہفتے میں وزیر اعظم اور کابینہ کے سامنے رکھیں۔عدالت عالیہ نے رجسٹرار ہائی کورٹ کو فیصلے کی کاپی سیکریٹری داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت تحقیقات کر کے متاثرین کو پلاٹ نہ دینے والے افسران کا تعین کرے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2010میں طے کردہ معاوضہ اب قابل عمل نہیں رہا ہے اس لیے نئی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اس عدالت کو بتایا گیا کہ زیادہ تر حاصل کردہ زمین کا ریکارڈ نیب لے گیا تھا اور پھرغائب ہی ہوگیا اور اس سلسلے میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے متاثرین کو بنیادی حق سے محروم کر کے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے لہذا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button