تعلیم

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں فیکلٹیز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 13 اور شعبہ جات کی تعداد 48 سے بڑھا کر 123 کردی گئی

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی اکیڈمک کونسل نے انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر کے ویژن کے مطابق جامعہ کو عالمی سطح کی نامور علمی دانشگاہ کا درجہ دلانے کے لیے اصلاحات اور ریسٹرکچرنگ کی منظوری دے دی۔ ان اصلاحات کے تحت جامعہ میں فیکلٹیز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 13 اور شعبہ جات کی تعداد 48 سے بڑھا کر 123 کر دی گئی۔

اکیڈمک کونسل کا 49 واں اجلاس انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر کی زیر صدارت آن لائن منعقد ہوا جس میں ڈینز، پرنسپل کالجز، تدریسی شعبہ جات کے سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں طے پایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو ملکی اور عالمی سطح پر تدریس وتحقیق کا منفرد اِدارہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر شعبہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ دورِ حاضر کے تقاضوں اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام متعارف کرائیں جا سکیں۔

فیکلٹی آف آرٹس میں انگلش لٹریچر، انگلش لینگوئسٹکس اور فلسفے کے نئے شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں اور یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن میں شعبوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

فیکلٹی آف سوشل سائنسز میں انتھروپولوجی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے نئے شعبے قائم کیے گئے ہیں جنہیں بتدریج مکمل شعبے کی حیثیت دے دی جائے گی۔

فیکلٹی آف ایجوکیشن میں ابتدائی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن، سپیشل ایجوکیشن، ایجوکیشن پلاننگ اینڈ مینجمنٹ، ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن اور لینگوئج ایجوکیشن کے نئے شعبے قائم کیے گئے ہیں۔

فیکلٹی آف اسلامک لرننگ میں ٹرانسلیشن سٹڈیز کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔

فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور کامرس میں اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس کے شعبے کے ساتھ سکول آف بزنس مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز قائم کیا گیا ہے جو 9 شعبہ جات پر مشتمل ہوگا جن میں انٹرپرینورشپ، ٹورازم مینجمنٹ، پراجیکٹ اینڈ آپریشن مینجمنٹ، ٹیکنالوجی مینجمنٹ، اسلامک اینڈ کامرس بینکنگ اور ایڈمنسٹریٹو سائنسز جیسے نئے شعبہ جات شامل ہیں۔

فیکلٹی آف فارمیسی پانچ شعبہ جات پرمشتمل ہو گئی ہے۔

فیکلٹی آف سائنس میں انسٹی ٹیوٹ آف بائیو کیمسٹری، بائیو ٹیکنالوجی، بائیو انفارمیٹکس اور انسٹی ٹیوٹ آف فزکس قائم کیا گیا ہے جو 11 شعبہ جات پر مشتمل ہوگا جن میں پارٹیکل فزکس اور رینیوایبل انرجی کے نئے شعبے شامل ہیں۔

فیکلٹی آف انجینئرنگ 7 شعبہ جات پر مشتمل ہوگی جن میں مکینکل انجینئرنگ اور سنٹر فار رینیو ایبل انرجی سسٹم جیسے شعبہ جات شامل ہیں۔

فیکلٹی آف کمپیوٹنگ میں 6 شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں جن میں آرٹیفیشل انٹیلی جینس، انفارمیشن سیکورٹی اور ڈیٹا سائنسز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز 13 شعبہ جات پر مشتمل ہوگی جبکہ فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹل سائنسز میں 9شعبہ جات ہوں گے۔

فیکلٹی آف لاء میں لاء اور اسلامک اینڈ شریعہ لاء کے شعبے قائم ہوں گے۔

فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں فزیکل تھراپی، یونیورسٹی کالج آف کنونشنل میڈیسن، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج، سکول آف نرسنگ اور ہیومین ڈائٹ اور نیوٹریشن کے شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں۔

مزید برآں اجلاس میں پلانٹ پیتھالوجی کے شعبہ میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی پروگراموں کی منظوری دی گئی۔ اینوائرمنٹل سائنسز میں بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے نصاب کی منظوری دی گئی۔ سوشل ورک میں پی ایچ ڈی پروگرام کی منظوری دی گئی۔ بی ایس کے تیسرے اور ایم اے کے پانچویں سمسٹر میں تجوید القرآن کے مضمون کی منظور ی دے دی گئی۔ ایم ایس کلائمیٹ چینج اور بی ایس سرائیکی پروگرام کی منظوری کے ساتھ ساتھ بی ایس آرکیالوجی اور بی ایس بائیو انفارمیٹکس کے پروگراموں کی بھی منظور دی گئی۔

حکومتی اعلان کے مطابق اقلیتوں کے لیے 2 فیصد کوٹے کی بھی منظوری اور سیلف فنانس پروگراموں کے فیس سٹرکچر میں نظر ثانی کی بھی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button