بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی پر پاکستان پُرامید، مگر محتاط ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو مرتبہ ایران گئے ہیں تو اس کے پیچھے یقیناً کچھ مثبت پیش رفت موجود ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ محتاط امید کا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعض طاقتور عناصر اور امن کے مخالفین ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تنازع، افراتفری اور تشدد سے ان کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے عناصر عالمی کساد بازاری، معاشی دباؤ اور عوامی مشکلات کو بھی اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی عبارت میں کسی نئے ملک کی شمولیت پر پابندی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی شمولیت کا حتمی فیصلہ معاہدے کے تین بنیادی فریقوں کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔

انہوں نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کے تنازع کا حصہ نہیں، کیونکہ یہ یمن کے اندرونی فریقوں کے درمیان تنازع ہے۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کارروائیوں کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔

یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button