
حریت رہنماؤں کی گرتی ہوئی صحت اور جیلوں میں بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ ومجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ حریت رہنماؤں کی گرتی ہوئی صحت اور جیلوں میں بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے آواز اٹھائی ہے کہ متعدد سینئر رہنما بھارتی جیلوں میں سنگین امراض کا شکار ہیں اور انہیں جیل مینوئل کے مطابق موزوں علاج میسر نہیں ہے۔ اس کے برعکس، حکام اور جیل انتظامیہ کا موقف رہا ہے کہ قیدیوں کو ضابطے کے تحت باقاعدگی سے طبی امداد فراہم کی جاتی ہے اور ان کی حالت مستحکم بتاتی جو کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔انہیں جیل میں ضروری طبی امداد نہیں دی جا رہی۔اور مناسب علاج معالجے کی سہولیات کا نہ ملنا ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔
سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر قیدیوں کو طبی حقوق سے محروم رکھنا انسانی حقوق اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔خصوصی عدالتوں نے بعض معاملات میں جیل مینوئل پر سختی سے عمل کرنے اور ضرورت پڑنے پر قیدیوں کو ماہر ڈاکٹروں سے خصوصی علاج دلوانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ قید رہنماؤں کے اہل خانہ اکثر ان کی بگڑتی ہوئی حالت پر جان کا خطرہ ظاہر کرتے ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) کے سینئر رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے حکومتِ ہند سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیمار رہنماؤں کی رہائی کی اپیل کی ہے۔













