بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

علما کرام نوجوان نسل کو فرقہ واریت، انتہاپسندی اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھنے میں رہنمائی فراہم کریں، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے علما کرام پر زور دیا ہے کہ وہ معاشرے میں اتحاد، اخوت اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور بالخصوص نوجوان نسل کو فرقہ واریت، انتہاپسندی اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھنے میں رہنمائی فراہم کریں۔

اسلام آباد میں سالانہ بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علما کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی رہنمائی کریں اور نوجوانوں کو درپیش فکری و نظریاتی چیلنجز کا دانشمندی سے جواب دیں۔

وزیراعظم نے علما سے کہا کہ وہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے پیغامِ رواداری، مکالمے، درگزر اور رحمت و شفقت کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ علمی اختلافات کو باہمی تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ نئی نسل کے کردار اور اخلاقی اقدار کی تشکیل نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اس مقصد کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے، جس پر وفاقی دارالحکومت میں عملدرآمد کیا جا چکا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان نسل کو انتہاپسندی، فرقہ واریت اور گمراہ کن خیالات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے سوالات کا حکمت کے ساتھ جواب دیا جائے اور انہیں اسلامی روایات کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں تربیت پانے والی نئی نسل کے علما کو مضبوط اخلاقی کردار اور دیانت داری کا مظہر ہونا چاہیے۔ منبر و محراب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد انہیں اسوۂ حسنہ کی روشنی میں قوم میں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام عام کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ امن، رحمت اور شفقت کا عالمگیر پیغام ہے اور دنیا کو یہ سمجھنے کی دعوت دینی چاہیے کہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات عالمی امن کی ضمانت ہیں۔

شہباز شریف نے خطے میں امن اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو تقسیم کرنے، ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور نفرت کا زہر پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کوششوں کا بہترین نتیجہ آج ہمارے سامنے مکہ معاہدے کی صورت میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی کی جنگ کے دوران ترکیہ اور سعودی عرب نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں برادر ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست کی تشکیل کے لیے ایک مکمل نمونہ فراہم کرتی ہے، جو نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری، رحمت اور قربانی کا درس دیتی ہے۔

رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا راغب حسین نعیمی سمیت معروف علما کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

علما کرام نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا رہنما بنائیں۔

کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نے سیرت النبی ﷺ پر لکھی گئی کتب کے مصنفین میں اعزازات اور انعامات بھی تقسیم کیے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button