
پاکستان کا آئی ٹی کا شعبہ تیزی سے ترقی کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ( ایس آئی ایف سی ) کی تین سالہ موثر سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک تیزی سے خطے کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی حب کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان میں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 جیسے بڑے بین الاقوامی ٹیکنالوجی ایونٹس کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا، جس سے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہوئی۔
اسی طرح انڈس اے آئی ویک 2026 جیسے پروگراموں نے مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے وزارتِ آئی ٹی نے "اے آئی سیکھو 2026” پروگرام بھی شروع کیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے سپرنیٹ گلوبل کی توسیع عمل میں آئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات اور زرمبادلہ کے حصول میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایس آئی ایف سی کی مثر حکمت عملی کے تحت ملک میں 5G اسپیکٹرم کے آغاز کی راہ ہموار ہوئی، جس سے تیز رفتار رابطوں، جدید کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کی مجموعی مالیت 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2020 کے بعد نمایاں ترقی کی عکاس ہے اور ملک میں اختراع، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری اور مربوط پالیسی اقدامات نے پاکستان کے آئی ٹی شعبے کو عالمی معیار، سرمایہ کاری کے مواقع اور ڈیجیٹل ترقی کے ایک مضبوط ماڈل میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔















