بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

مون سون کے دوران اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رہیں گے، وفاقی وزرا کا عزم

وفاقی وزرا نے جاری مون سون سیزن کے دوران اہم قومی تنصیبات کے تحفظ اور ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے تیز رفتار اور مربوط اقدامات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، معین وٹو، محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ نے منگل کے روز اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کے باعث پاکستان کو اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مون سون سیزن کے آغاز سے قبل ہی ضروری اقدامات شروع کر دیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہول آف گورنمنٹ اپروچ کے تحت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت نے پہاڑی، میدانی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ جامع اور ہدفی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ مون سون بارشوں کے منفی اثرات سے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ورلڈ بینک کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے موسم کی بروقت پیش گوئیاں عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی سطح پر ریسپانس اداروں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں سے زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

وفاقی وزیر معین وٹو نے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کی آبی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

دورے کے دوران وفاقی وزرا کو این ڈی ایم اے کی جانب سے ملک میں مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button