بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کی روشن علامت ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی پاکستان میں قومی اتفاقِ رائے کی مضبوط ترین مثالوں میں سے ایک ہے، جسے ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

وہ بیجنگ میں چین پاکستان سیاسی جماعتوں کے فورم اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

احسن اقبال نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے کا فورم کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے کے ساتھ اپنے ادارہ جاتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

سی پیک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے احسن اقبال نے اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ اور پاک چین دوستی کی روشن علامت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس منصوبے نے توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، گوادر کو علاقائی رابطے کے مرکز کے طور پر بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں کی وسیع حمایت سی پیک کی کامیابی اور تسلسل کی ایک اہم وجہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اب سی پیک 2.0 کے تحت تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی تعاون، جدت، پائیداری، زرعی جدیدکاری اور عوامی فلاح پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک تعاون کے مستقبل کی سمت “پانچ راہداریوں” کے فریم ورک کے تحت متعین کی جائے گی، جن میں گروتھ کوریڈور، لائیولی ہڈ کوریڈور، انوویشن کوریڈور، گرین کوریڈور اور اوپن اینڈ اِنکلیوسیو ریجنل ڈیولپمنٹ کوریڈور شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاک چین دوستی کے مستقبل کو نئی نسل کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے، جس کے لیے تعلیم، جدت، مصنوعی ذہانت، تحقیق اور نوجوان قیادت کے تبادلوں میں تعاون بڑھانا ہوگا۔

احسن اقبال نے سی پیک کے تمام جاری اور مستقبل کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور اداروں کی مکمل سکیورٹی اور تحفظ کی یقین دہانی بھی کرائی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button