بسم اللہ الرحمن الرحیم

مضامین

لاہور تا راولپنڈی: رفتار کے خواب اور حقیقت کی پٹڑی

حکومتِ پنجاب اور پاکستان ریلویز کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (MoU) بلاشبہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عوام کو تیز، محفوظ اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس معاہدے پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر برائے ریلوئے حنیف عباسی کے دستخط اس معاہدے کی سنجیدگی پہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا یہ پراجیکٹ واقعی کامیاب ہوگا یا صرف تشہیری مہم کا ایک مہرہ۔

منصوبے کا سب سے نمایاں اور پرکشش پہلو لاہور سے راولپنڈی کے درمیان ایک فاسٹ ٹرین کا اجراء ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً 280 کلومیٹر کا فاصلہ صرف دو گھنٹے پندرہ منٹ میں طے کرے گی۔ بظاہر یہ ایک انقلابی قدم معلوم ہوتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں یہی سفر چار گھنٹے یا اس سے بھی زائد وقت لے لیتا ہے۔ گویا وقت آدھا کرنے کا خواب عوام کے سامنے رکھا گیا ہے—ایک ایسا خواب جو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

تاہم، کیا یہ خواب موجودہ ریلوے ڈھانچے کے ساتھ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے؟

اس وقت پاکستان میں ٹرینوں کی رفتار عمومی طور پر 90 سے 105 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ چند بہتر سیکشنز میں یہ رفتار 110 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ عملی طور پر، اسٹیشنوں پر رکنے، لیول کراسنگز اور پرانے سگنل سسٹم کے باعث اوسط رفتار 70 سے 85 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہو پاتی۔ ایسے میں دو گھنٹے پندرہ منٹ میں لاہور سے راولپنڈی پہنچنے کے لیے کم از کم 125 سے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی مسلسل رفتار درکار ہوگی—جو موجودہ نظام میں ممکن نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلہ واضح ہونا شروع ہوتا ہے۔

150 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس کے قریب رفتار حاصل کرنے کے لیے صرف نئی ٹرینیں خرید لینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ پورے ریلوے نظام کی ازسرِ نو تعمیر درکار ہوگی۔ سب سے پہلے ٹریک اپ گریڈیشن ناگزیر ہے— پرانے ریلوں کی جگہ ہیوی ڈیوٹی لگاتار ویلڈڈ ریل ٹریک ، لکڑی کے سلیپرز کی جگہ کنکریٹ سلیپرز، اور ٹریک کی جیومیٹری کی ازسرِ نو درستگی۔ یہ وہ بنیادی ستون ہیں جس پر رفتار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

اسی طرح جدید سگنلنگ سسٹم، جیسے آٹومیٹک بلاک سسٹم اور کیبن سگنلنگ (ETCS) ،ناگزیر ہیں۔ بغیر ان کے تیز رفتار ٹرین کا تصور محض خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ مزید برآں، لیول کراسنگز کا خاتمہ ایک بڑا مگر مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ پاکستان میں سینکڑوں مقامات پر ریلوے لائنیں سڑکوں کو کاٹتی ہیں۔ ان کی جگہ فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کرنا وقت اور سرمائے دونوں کا تقاضا کرتا ہے۔

ٹرینوں کے اپنے نظام—یعنی رولنگ اسٹاک—کو بھی جدید بنانا ہوگا۔ ہائی اسپیڈ بوگیز، جدید بریکنگ سسٹم، اور ممکنہ طور پر DMU یا الیکٹرک ٹرین سیٹس اس منصوبے کا لازمی حصہ ہوں گے۔ ساتھ ہی، آپریشنل اصلاحات جیسے کم اسٹاپس، علیحدہ ٹریکس اور بہتر شیڈولنگ بھی ضروری ہیں۔

اگر اس تمام عمل کی لاگت کا تخمینہ لگایا جائے تو لاہور تا راولپنڈی تقریباً 280 کلومیٹر کے اس روٹ پر مکمل اپ گریڈیشن کے لیے 800 ملین سے لے کر 1.5 بلین ڈالر تک درکار ہو سکتے ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں 220 سے 420 ارب روپے بنتے ہیں۔ وقت کے لحاظ سے یہ منصوبہ کم از کم چار سے چھ سال کا متقاضی ہے—بشرطیکہ فنڈنگ میں تسلسل اور سیاسی استحکام برقرار رہے۔

اصل چیلنج یہی ہے: کیا ہم اس تسلسل کو برقرار رکھ سکتے ہیں؟
پاکستان میں ماضی کے کئی بڑے منصوبے سیاسی تبدیلیوں، فنڈز کی کمی اور انتظامی رکاوٹوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ زمین کے حصول، کراسنگز کی تعداد اور ادارہ جاتی کمزوری جیسے عوامل اس منصوبے کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا حصول ناممکن نہیں، مگر یہ جزوی مرمت یا نمائشی اقدامات سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک مکمل “نیم ہائی اسپیڈ ریلوے” وژن درکار ہے—ایسا وژن جو صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات، سرمایہ کاری اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہو۔

اگر یہ تمام شرائط پوری ہو جائیں تو لاہور اور راولپنڈی کے درمیان سفر واقعی دو گھنٹے پندرہ منٹ میں طے ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ منصوبہ بھی ہمارے دیگر خوابوں کی طرح محض ایک خوبصورت اعلان بن کر رہ جائے گا—جو وقت کی پٹڑی پر کبھی منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button