بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

اقوام متحدہ میں پاکستان کا پانی کو ہتھیار بنانے کے خلاف انتباہ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، روزگار اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

عالمی یومِ آب کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا پاکستان کی تہذیب، معیشت اور معاشی مستقبل پر حملے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایسا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی معیشت اور معاشرت میں زراعت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ تقریباً نصف افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی 61 فیصد سے زائد ملازمتیں بھی زراعت سے متعلق ہیں، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی خوشحالی کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کے انسانی و سماجی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار بڑی سیلابی آفات میں تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی یا معذور ہوئے، جبکہ لگ بھگ 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button