بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے ٹیکسز کے نفاذ کو مستردکردیا

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظالمانہ ٹیکس سے دودھ، مرغی ،انڈا اور گوشت مہنگا پیدا کرکے سستا فروخت نہیں کر سکتے، حکومتی ٹیکس سے 80 لاکھ گھرانے بے روزگار ہوجائیں گے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ڈیری کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ ٹیکسز کے نفاذ کے بعد ایک کلو دودھ 300 سو روپے، گائے کا گوشت 2 ہزار روپے اور بکرے کا گوشت 3 ہزار 5 سو روپے پرپہنچ جائے گا۔

کو آپریٹو ڈیری فارمنگ کے عہدیداروں نے مؤقف اپنایا کہ دودھ کی قیمت کے تعین کا اختیار ضلعی حکومت کے بجائے ڈیری کیٹل فارمرز کے پاس ہونا چاہیے۔انہوں نے ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ ٹیکس سے دودھ، مرغی ،انڈا اور گوشت مہنگا پیدا کرکے سستا فروخت نہیں کر سکتے، حکومتی ٹیکس سے 80 لاکھ گھرانے بے روزگار ہوجائیں گے۔

چیف آرگنائزر شہباز رسول وڑائچ نے کہا کہ خشک دودھ کی امپورٹ پرپابندی عائد کی جائے،، تازہ دودھ کی قیمت کا تعین ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے مطابق کیا جائے، ضلعی سطح پر دودھ کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن پیداواری لاگت کے مطابق جاری کیے جائیں، ضلعی سطح پر دودھ کے نئے نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ ہم دیوالیہ ہونے سے بچ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ زبردستی ٹیکس لگایا گیا تو ملک میں دودھ کی کمی کا خدشہ پیدا ہوجائےگا، اگر زبردستی ٹیکس نافذ کیا تو ڈیری سیکٹر بڑھنے کے بجائے تنزلی کی طرف چلا جائے گا، حکومت وقت کو آگاہ کررہے ہیں فارمر کو دیوار سے لگایاگیا تو پھر مسائل پیدا ہوں گے، بچوں کو جو خالص دودھ نہ دے اس کو کڑی سزا دی جائےگی۔

مزید پڑھیے  ایف بی آر نے جائیداد کی نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری تک معطل کردیا
Back to top button