بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

پاکستان چینی کمپنیوں کے کاروبار کے فروغ اور توسیع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چینی کمپنیوں کے کاروبار کے فروغ اور توسیع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ٹیکنالوجی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

وہ بیجنگ میں چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کا بنیادی ستون ہے۔

شہباز شریف نے آئی بی آئی کارپوریشن کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پاکستان کی چار اہم ترجیحات میں شامل ہیں، جن پر حکومت تیزی سے کام کر رہی ہے۔

تقریب میں موجود نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے انہیں باصلاحیت کاروباری افراد اور ماہرین قرار دیا اور کہا کہ حکومت نوجوانوں کو فنی تربیت اور مہارتوں کی فراہمی کے لیے وسیع اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور پاکستان و چین کے درمیان تعاون ان کے قریبی روابط سے مزید مضبوط ہوگا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو کراچی میں پورٹ قاسم کے قریب قائم پہلے اسپیشل اکنامک زون کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی، جو چھ ہزار ایکڑ پر محیط ایک اہم منصوبہ ہے جہاں جدید انفراسٹرکچر اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اس سے قبل آئی بی آئی کارپوریشن پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا استقبال بیجنگ کے فنگتائی ڈسٹرکٹ کے پارٹی سیکرٹری وانگ شاؤفنگ اور آئی بی آئی کے صدر چیان شیاو جون نے کیا۔

تقریب میں ڈیڑھ سو سے زائد کمپنیوں اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی تعاون اور سرحد پار صنعتی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button