بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا دینا ہوگی، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 9 مئی کو عوام اور فوج میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا دینا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایک سوال کے جواب پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ 9 مئی صرف افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں ہے، یہ پورے پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں اس کی فوج پر حملہ کرایا، اس کی فوج کے شہدا کی علامات کی تضحیک کی تھی، اس کے بانی کے گھر کو جلایا تھا، وہاں پر فوج اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کی گئی، اور وہ لوگ جو یہ کر رہے ہیں، یہ کروا رہے ہیں، ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے تو کسی بھی ملک میں ایسا ہو وہاں کے نظام انصاف پر سوال اٹھتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر پاکستان کے نظام انصاف پر یقین قائم رکھنا ہے اور جزا اور سزا کا وہ نظام جس پر اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات، یہ قدرت اور یہ نظام چلتا ہے، اگر اس پر یقین قائم رکھنا ہے تو 9 مئی کے ملزمان، اس کو کرنے والے اور اس کو کرانے والے، آئین اور قانون کے مطابق انہیں سزا دینی پڑے گی۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے 9 مئی سے متعلق بیانیہ بنائے جانے کے حوالے سے کہا کہ 9 مئی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے، اس کے ناقابل تردید شواہد عوام کے پاس بھی ہیں، افواج کے پاس ہی نہیں، ہم سب کے پاس ہیں، ہم نے اپنی آنکھوں سے ان واقعات کو ہوتے دیکھا، ہم سب سے دیکھا کہ کس طریقے سے لوگوں کی ذہن سازی کی گئی، ان کو افواج کے خلاف، اس کی قیادت کے خلاف، ایجنسیوں اور اداروں کے خلاف جھوٹ اور پروپیگنڈے سے ان کے ذہن بنائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ کچھ سیاسی رہنماؤں نے چن چن کر اہداف دیے کہ ادھر حملہ کرو، ادھر حملہ کرو، ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں پورے ملک میں صرف فوجی تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور ان واقعات کو آپ نے بھی دیکھا، کیمرے کی آنکھ نے فلم بند بھی کیا اور جب یہ شواہد اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے آئیں تو آپ نے عوام کا غصہ اور رد عمل بھی دیکھا، آپ نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح سے عوام اس انتشاری ٹولے سے پیچھے ہٹی، تو جب یہ کھل کر سامنے آگیا تو وہ دوسرا فریب ، دوسرا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا گیا کہ یہ فالس فلیگ آپریشن تھا، یہ تو پتا ہی نہیں کہ یہ کیا ہوا، کون، کیسے کرگیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایک انگریزی مقولے کا حوالہ دیا اور کہا ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ ’آپ سب لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بیوقوف بنا سکتے ہیں، کچھ لوگوں کو ہمیشہ بیوقوف بنا سکتے ہیں، لیکن آپ سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بیوقوف نہیں بنا سکتے‘، تو یہ جھوٹ اور یہ فریب میرے بھائی نہیں چل سکتا، یہ جو میں نے آپ کو بتایا، جو آپ نے دیکھا، یہ آپ لوگوں کے سامنے ہے، اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو اس کی چھوٹی سی جھلک دکھاتا ہوں تاکہ آپ کی یاد داشت تازہ ہو کہ 9 مئی کا دن کیا تھا۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جا نب سے 9 مئی 2023 کو پیش آئے توڑ پھوڑ واقعات سے متعلق کچھ مناظر بھی نشر کیے گئے اور کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات بھی نشر کیے گئے۔

انہوں نے کہا یہ مناظر دیکھ کر انسان خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح معصوم بچوں کو ذہنی طور پر ورغلایا گیا، کس طرح ان میں زہر ڈالا گیا، کس طرح اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے اپنے ملک کی فوج، اپنے ہی شہیدوں اور اپنی ہی املاک کو آگ لگائی۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے، شاید لیکن اس سے کم درجے کے واقعات سیاسی بلوائی ساری دنیا میں کرتے آئے ہیں، دنیا کے دیگر ممالک کیا کرتے ہیں، نظر دوڑائیں تو آپ کو ماضی قریب میں بھی اس کی مثال ملتی ہے، اگست 2011 میں لندن فسادات ہوئے، بلوائیوں نے سیاسی اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا، اس کے بعد وہاں کا، کرمنل کورٹ سسٹم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے، دن رات عدالتیں لگیں، جو بلوائی اور انتشاری تھے، جو ان کے پیچھے کروانے والے تھے، انہیں سخت سے سخت سزائیں دلوائی گئیں، اگر ان فسادات میں 18 سال سے کم عمر بچے ملوث تھے، انہیں بھی نہیں چھوڑا گیا، انہیں بھی سزائیں دلوائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ 2021 میں واشنگٹن ڈی سی امریکا میں سیاسی بلوائی کیپیٹل ہل کی عمارت میں گھسے، وہاں عمارت کو نقصان پہنچایا، توڑ پھوڑ کی تو وہاں پر کوئی جوڈیشل کمیشن یا چینلز پر بحث و مباحثے نہیں شروع ہوئے، کرمنل کورٹ سسٹم آیا، لوگوں کی شناخت کی گئی اور ان کو بھی جو وہاں موجود تھے یا موجود نہیں لیکن ان واقعات کے محرکات میں شامل تھے، سخت سزائیں دی گئیں، یہ آپ کے سامنے ہے۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس سے آگے بڑھیں، 9 مئی کے بعد 27 جون 2023 پیرس کے مضافات میں بلوے اور ہنگامے ہوئے، وہاں کا عدالتی نطام سرعت کے ساتھ حرکت میں آیا اور سخت سزائیں دیں، یہ میں نے آپ کو چند مثالیں ماضی قریب کی دیں جن مثالیں ہماری اشرافیہ دیتے ہوئے تھکتی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایسا کیوں کیا، اس لیے تاکہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو، تاکہ ملک میں مخصوص سیاسی مقاصد رکھنے والے انتشاری گروہ اور ٹولے ہیں انہیں یہ موقع نہ ملے کہ و۰ہ ریاست پر اپنی مرضی سے جب چاہیں چڑھائی کردیں، وہاں پر کسی نے کسی کی فوج پر تو حملہ نہیں کیا تھا، وہاں پر کسی نے اپنے محسن، اپنے بانی کے گھر کو تو نہیں جلایا تھا، وہاں کسی نے شہیدوں کے مجسموں اور نشانیوں کو تو آگ نہیں لگائی تھی، وہاں تو اس سے بہت کم ہوا تھا، تو سوال یہ بنتا ہے کہ آج ہم کیوں کسی وجہ سے ایک حربہ، دوسرا تاریخی حربہ اور 9 مئی کرنے اور کرانے والوں کے مکافات عمل کو پیچھے کیوں دھکیل رہے ہیں۔

ان کہنا تھا کہ یہ سوال بنتا ہے کہ کیا ہم خدانخواستہ کسی اور 9 مئی کے سانحے کا انتظار کر رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنادیا جائے، میرا سوال یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن تو اس چیز پر بنتا ہے جس کے بارے میں ابہام ہو، یہ واقعات تو آپ کے سامنے سامنے ہے، بلکل واضح ہے، یہ بھی واضح ہے کہ کس طرح سے ورغلایا گیا، کیسے ذہن سازی کی گئی، کیسے اہداف دکھائے گئے، کیسے نکالا گیا، اس میں بھی کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے کہا جائے کہ جوڈیشل کمیشن بنادیں تاکہ پتا چلے کہ واقعہ ہوا ہے کہ نہیں ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم تیار ہیں، بنادیں جوڈیشل کمیشن، لیکن اگر جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو پھر ایک جوڈیشل کمیشن اس پورے واقعہ کی تہہ تک جائے، وہ جوڈیشل کمیشن اس بات کا بھی احاطہ کرے کہ 2014 کے دھرنے کے مقاصد کیا تھے، وہ اس بات کا بھی احاطہ کرے کہ پارلیمنٹ، پی ٹی وی، پر حملہ کیسے ہوا، کیسے کرایا گیا، کس طرح لوگوں کو یہ ہمت دی گئی کہ آپ ریاست کے خلاف کھڑے ہوں، پاسپورٹ جلائیں، سول نافرمانی کریں، بجلی کے بل جلائیں، کس طرح 2016 میں خیبر پخپتونخوا کے سرکاری وسائل سے دارالخلافہ پر وھاوا بولیں، 2022 میں دوبارہ دھاوا بولیں۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وہ جوڈیشل کمیشن یہ بھی دیکھے کہ کیسے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے، باہر فرمز کے ذریعے لابنگ کی گئی کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے دیا جائے، اس کو قرضہ نہ دیا جائے، کہاں سے فنڈنگ آ رہی تھی، کہاں جا رہی تھی، اس بات کا بھی احاطہ کیا جائے، اس کا بھی دیکھا جائے کہ وہ کون لوگ تھے جو سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے تھے، کیونکہ اگر ہم نے ان چیزوں کا احاطہ نہیں کیا اور کیونکہ ہم نے ان چیزوں کا احاطہ نہیں کیا تو 9 مئی ہونا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر ایک مخصوص سیاسی ٹولہ وقت گزرنے کے ساتھ بغیر کسی سزا کے یہ سارے کام کرتا رہے گا تو ایک دن وہ اپنی فوج پر ہی چڑھ دوڑے گا، آپ کے سامنے ہی ہوا، جب وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ بولتا ہی رہے اور آپ اس کے سامنے سچ نہ بولیں تو پھر ہو ہر طرح کا فریب اور پروپیگنڈا کرے گا۔

9 مئی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی ٹولہ شے پڑتے پڑتے یہاں تک پہنچا کہ وہ اپنی ہی فوج پہ اپنے ہی اداروں پر حملہ آور ہوگیا۔

ترجمان نے کہا کہ 9 مئی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی ٹولہ شے پڑتے پڑتے یہاں تک پہنچا کہ وہ اپنی ہی فوج پہ اپنے ہی اداروں پر حملہ آور ہوگیا اور پھر پاکستان کی جو غیرت مند، باشعور عوام ہے وہ 9 مئی کو کھڑی ہوگئی، وہ ایسے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس انتشاری ٹولے سے پیچھے کرلیا ، انہوں نے کہا کہ میں اس کا حصہ نہیں بنوں گا، میں اس کو انکار کرتا ہوں، میں اس عمل کی نفی، اس کی مذمت کرتا ہوں، اس نے اس عمل سے کراہت کی اور جب انہوں نے عوامی رد عمل دیکھا تو دوسرا جھوٹ اور پراپیگنڈا کیا کہ ہم تو خود مظلوم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کے عوام کو اتنا بیوقوف سمجھا جائے، جھوٹ پر جھوٹ اور فریم پر فریم، اس لیے میں نے شروع میں یہ کہا تھا کہ 9 مئی کا مقدمہ پاک فوج کا مقدمہ نہیں یہ عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ ہم سب کا مقدمہ ہے، 9 مئی کو کرنے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا نا دی گئی تو اس ملک میں کسی کی جان، مال آبرو محفوظ نہیں ہوگی، ہمیں اپنے سزا و جزا کے نظام پر یقین قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم 9 مئی کے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دیں اور جلد سے جلد دیں۔

مزید پڑھیے  آزاد کشمیر کے شہری نے اپنی تمام جائیداد مریم نواز کے نام کردی

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان آپ کے سامنے ہیں، جو آپ کا موجودہ فوجداری نظام ہے، ان کو پراسیسکیوٹ کریں اور آئین اور قانون کے مطابق سزا دیں اور آگے بڑھیں، اس میں ابہام کیا ہے، اگر کمیشن بننا ہے تو اس پر بنے کہ ہم پوچھیں کیوں ہیں ادھر تک، جن ممالک کی مثالیں دیتے ہیں وہ تو اس طرح کے معاملات سے بہت سختی سے نمٹا جاتا ہے، جی ایچ کیو سمیت دیگر تنصیبات پر حملہ کرنے کے پیچھے پوری ایک کہانی ہے، اس کو شہہ دی گئی، اس کو چیک نہیں کیا گیا، اس کو وقت پر روکا نہیں گیا، اس پر مزید جھوٹ بولا جا رہا ہے، کمیشن بنادیا جائے تو میرا خیال ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سوشل میڈیا اور میڈیا میں اداروں پر کچھ مخصوص سیاسی حلقے ایسے ہیں جو تواتر کے ساتھ فوج اور دیگر اداروں پر الزام لگاتے رہتے ہیں، ان الزامات کے جواب میں جب ثبوت مانگا جاتا ہے تو ثبوت دینے کے بجائے مزید الزام تراشی شروع کردیتے ہیں، اگر ادارہ بھی جواب میں الزام تراشی شروع کردے تو ہم ایک سائیکل میں پھنس جائیں گے، ہم حقائق پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ جو سچائی ہوتی ہے وہ جھوٹ پر ہمیشہ غالب آئی گی۔

میجر جنرل ارشد شریف نے کہا کہ اگر آئین کی بات کرتے ہیں تو آرٹیکل 19 بلاشبہ آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بناتا ہے لیکن یہی آرٹیکل بڑے واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کے پاکستان کی سالمیت، سیکیورٹی اور دفاع پر وار نہیں کیا جاسکتا، یہ اارٹیکل کہتا ہے کہ آزادی رائے کے پیچھے چھپ کر دوست ممالک کے ساتھ روابط کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قوم کی اخلاقیات تباہ کردیں آپ پبلک آرڈر اور امن و عامہ تباہ کردیں، آپ اعلی عدلیہ کے وقار کی منافی بات کریں، آئین اور قانون پاکستان بڑا واضح ہے کہ وہ ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے بتایا کہ آئین تو مقدم ہے اس سے بڑھ کر ہمارا دین تو کیا دین اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اے مومنوں اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، الحمد اللہ ہم سب مسلمان ہیں اور اللہ کا حکم واضح ہے، ہم نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، ہم اس بات کی اجازت نہین دے سکتے کہ آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر ملکی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جو مقننہ ہے جس کا حق ہے قانون سازی کا کہ یہ جو جھوٹ کا بازار گرم ہے، اس کے اوپر قانون سازی کی جائے، ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ قوانین ہیں اور جو نئے بننے ہیں اس پر سختی سے عمل در آمد کروایا جائے، اگر اس کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا تو یہ اس معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا، کچھ عرصے سے معاشرے میں استحکام اارہا ہے، عدم اعتماد ختم ہورہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور عوام کو سمجھ آرہا ہے کہ کون کیا کیوں کر رہا ہے، کیسے پراپیگنڈے کیے ہیں اور اب وہ کھل کر سامنے آرہے ہیں، جھوٹ اور فریب کو شکست ہوگی۔

ایک سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ کا ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ ایک کو چھپانے کے لیے 10 جھوٹ بولنے پڑتے ہیں تو یہ جو بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ 8 فروری نے 9 مئی کو ختم کردیا تو 8 فروری کو ٹرن آؤٹ 47 فیصد تھا تقریبا ساڑھے 6 کروڑ لوگوں نے ووٹ دیا اس میں سے یہ مخصوص سیاسی پارٹی، اس کے لیڈرز جو یہ بات کرتے ہیں تو اس پارٹی کو 1.8 کروڑ ووٹ پڑے جو کہ کل کا بنتا ہے 31 فیصد تو 70 فیصد جو ووٹ پڑا وہ اس بیانیے کو نہیں پڑا اور اگر اسے آبادی کے تناسب سے دیکھوں تو کل آبادی کا یہ ساڑھے 7 فیصد بنتا ہے، اگر ہم یہ سوچیں کہ جس نے اس کو ووٹ ڈالا اس نے کہا کہ 9 مئی بلکل ٹھیک ہوا تھا، اور بالکل فوج پر حملہ ہونا چاہیے تھا اور بالکل شہیدوں کی تضحیک ہونی چاہیے تھی تو ہمیں یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے، ہمیں یقین ہے کہ عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے، یہ ایک جھوٹ ہے کہ جس نے اس کا ساتھ دیا وہ فوج کے مخالف ہے، کیا وہ ووٹ فوج کے خلاف تھا؟ ایبسولیوٹلی ناٹ۔

ترجمان نے کہا کہ جھوٹ پر کچھ نہیں چل سکتا ، جھوٹے بیانے بنتے رہیں گے، ہم حق اور سچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ ڈیل ہونے کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ پاک فوج قومی فوج ہے، اس میں تمام قومیت کے لوگ ہیں، اس کی کسی قسم کی سیاسی سوچ نہیں ہوتی، حکومت وقت سیاسی پارٹی بناتی ہیں تو ہر حکومت کے ساتھ فوج کا غیر سیاسی مگر آئینی تعلق ہوتا ہے، کیونکہ ہم کسی خاص سیاسی سوچ کا پرچار نہیں کرتے اسی طرح ہم خاص سیاسی سوچ کو لے کر آگے نہیں بڑھتے اس لیے ہمارے لیے تمام جماعتیں قابل احترام ہیں تاہم اگر کوئی سیاسی ٹولہ اپنی فوج پر حملہ آور ہو، عوام اور فوج کے درمیان نفرت پیدا کرے، اسی فوج کے شہیدوں کی تضحیک کرے اور اسی قوم کی فوج کے بارے میں دھکیاں دے تو اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، ایسے انتشاری ٹولے کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ معافی مانگے قوم سے اور وعدہ کرے کہ وہ نفرت کی سیاست کو چھوڑ کر تعمیری سیاست کرے

انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت سیاسی پارٹیوں کو زیب دیتی ہیں اس میں فوج یا اداروں کے لیے مناسب نہیں بات کرنا، ایسا انتشاری ٹولہ جو آپ کے سامنے سب کر رہا ہے اور کرواتا آرہا ہے، اس کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی، ہم نہیں کرسکتے۔

انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 8 فروری کے انتخابات میں آرمی کا کردار اتنا تھا جتنا الیکشن کمیشن نے مینڈیٹ کے ذریعے دیا تھا اور وہ تھا سیکیور ماحول پیدا کرنا اور یہ فوج نے دینی تھی، آرمی نے یہ سیکیور ماحول فراہم کیا، یہیہ ہمارا مینڈیٹ تھا اس سے زیادہ ہمارا سیاسی عمل میں دخل نہیں تھا، افسوس کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر تواتر سے زہریلاپراپیگنڈہ بنایا جاتا ہے، جھوٹ بولا جاتا ہے اسی تواتر میں الیکشن میں فوج کی سیاسی مداخلت کی بغیر ثبوت کے جھوٹے بیانیے کو آگے بڑھایا گیا، مذموم سیاسی مقاصد کے لیے کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس کو چلایا، ہم ان سے ایک ہی سوال کرتے ہین کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو جو متعلقہ آئینی ادارے ہیں وہ ان کے سامنے رکھا جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے اسٹیبلشمنٹ پر انتخابات میں مداخلت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج انتخابات میں کردار سیکیورٹی فراہم کرنے سے زیادہ نہیں تھا، جو لوگ بغیر ثبوت کے تواتر کے ساتھ سیاسی مداخلت کے الزامات لگا رہے ہیں، وہ ثبوت لے کر متعلقہ آئینی اداروں کے سامنے آئیں، ہم الزامات کا جواب الزام تراشی سے نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر سیاسی مذموم مقاصد استعمال کیے جائیں گے تو اس معاملے پر ریاست بلکل کلیئر ہے کہ کسی کو پاکستان کی ترقی کی راہ میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کسی کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بہاولنگر میں گزشتہ ماہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے درمیان پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہاں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، اس معاملے کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے حل کیا گیا، اس واقعہ پر بہت زیادہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، یہ فوج کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، اس سلسلے میں انکوائری جاری ہے، اس کے حقائق سے پنجاب حکومت ہی آگاہ کرسکتی ہے، ملک دشمن عناصر افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رخنہ اور دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی بات چیت اس کی قیمت سب دے رہے ہیں کیونکہ جو اصل مسائل ہیں پاکستان کے ان کے بجائے سارے تبصرے ان بے بنیاد الزامات پر مرکوز ہوجاتے ہیں۔

فوج کے فلاح و بہبود کے اداروں کے ٹیکس دینے کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل ارشد شریف نے کہا کہ جو ہمارے افسران، ہمارا جوان، ہمارے شہدا ہیں، جو ہمارے غازی ہیں وہ اس قوم کا اثاثہ ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے پاک فوج میں مربوط نطام موجود ہے اور یہ ادارے اس سسٹم کا حصہ ہیں جو ان کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں، یہ جتی جدید افواج ہوتی ہے ان میں جو ان کے شہدا ہوتے ہیں، ان کے ریٹارڈ ہوتے ہیں ان کے لیے ایسے ادارہ ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ باہر ممالک میں ایسے اداروں کی ستائش ہوتی ہے اور یہاں پر جس ماحول میں ہمارا میڈیا اور سوشل میڈیا جاچکا ہے اس کے اندر اس میں پراپیگنڈہ اور جھوٹ گڑھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2022-23 میں براہ راست پاکستان آرمی نے 100 ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں جمع کروایا، ان فلاحی اداروں کے 260 ارب روپے ٹیکسز کی مد میں جمع کروائے یہ کل ملا کے 360 ارب روپے ہوگئے، یہ جو 260 ان اداروں نے جمع کروایا اس میں 223 فوجی فاؤنڈیشن نے جمع کروایا ہے، ڈی ایچ اے جن پر بڑا سوال ہوتا ہے انہوں نے بھی 23 ارب روپے جمع کروائے، این ایل سی نے ساڑھے 3 ارب روپے جمع کروائے، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے تقریبا 3 ارب جمع کروائے، یہ حقیقت ہے، یہ جو فلاحی ادارے ہیں ان میں سرکاری خزانے سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا لیکن یہ سرکار کو کئی سو ارب روپے جمع کروا رہے ہیں، جو یہ سروس فراہم کر رہے ہیں اس کی قیمت آپ نہیں لگا سکتے، چاہے وہ سیکیورٹی کی شکل میں ہو یا چاہے وہ یونیورسٹی، ہسپتال ہوں، یا چاہے میڈیکل کیمپ ہوں، انسانی کے لیے یہ لوگ تو جانوروں کے لیے بھی کیمپ لگاتی ہے، کیا آپ اس کی قیمت لگا سکتے ہیں؟ کیا جو شہدا ہیں جو جنگ میں زخمی ہوگئے ہیں ان کی فلاح و بہبود پر جو پیسہ لگتا ہے، اگر وہ ادارے نا کریں تو کیا یہ ریاست پاکستان اور آپ کی اور میری ذمہ داری نہیں ہے؟ جو این ایل سی انٹر کنیکٹویٹی دے رہی ہے جو ارب ڈالرز کی تریڈ حاصل ہورہی ہے اس کی قیمت آپ لگا سکتے ہیں؟

مزید پڑھیے  اس ملک میں حاکمیت صرف ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو جب دور دراز علاقوں میں جاکر روڈ، ٹنلز بناتے ہیں اس کی قیمت لگا سکتے ہیں؟ جو زراعت میں معدنیات میں پاک فوج کام کر رہی ہے اس کی قیمت لگا سکتے ہیں؟ تو اس پراپیگنڈہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ان اداروں میں سویلین بھائی بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں، فوجی فاؤنڈیشن میں بڑی تعداد شہریوں کی ہے، حاضر سروس تو ان داروں میں آٹے کے نمک کے برابر ہیں، جو لوگ تنقید کرتے ہیں تو وہ انہی ڈی ایچ اے میں رہنا پسند کریں گے، انہی کے کالجز میں پڑھانا پسند کریں، ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی عادت بنانی پڑے گی۔

ایس آئی ایف سی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس میں اور معیشت کے دوسرے شعبوں میں فوج کا کردار حکومت کی منشا کے مطابق سہولت کاری کا ہے، وہ اس لیے کہ حکومت چاہتی ہے کہ جو فوج کی انتظامی ٹیکنیکل صلاحیت ہے، اسے اگر وہ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں تو اس منشا کے مطابق ہمارا کردار اس میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارا مقصد متعلقہ اداروں کی مدد کرنا ہے ناکہ ان کی جگہ لینا، بلکل ہمارا نہ یہ کردار ہے، نہ مقصد ہے، یہ کوئی صرف پاکستان میں نہیں ہے، دنیا پھر میں افواج کی صلاحیت کو معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کیاجا تا ہے، کیا یہ ملک میں پہلی بار ہوا، نہیں، ملک میں ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہم اس طرح کے زہریلے میڈیا ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں جھوٹ اور پروپیگنڈا اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں کہ فوج قبضہ کرنا چاہتی ہے، حکومت میں اپنا کردار بڑھانا چاہتی ہے، ایسا بلکل نہیں ہے۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے سوال کیا کہ اگر فوج ملک کی معیشت میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے اور حکومت ایسا چاہتی ہے تو وہ کیوں کردار ادا نہ کرے، عام فہم زبان میں کہوں کہ اگر آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور میں بجھانے آؤں تو آپ مجھ سے یہ تو نہیں کہیں گے کہ آگ بجھانے کیوں آیا ہوں، ہاں ایسا وہ ضرور کہے گا جس نے آگ لگائی ہو، وہ کہے گا کہ آگ بجھانے کیوں آئے، میں نے آگ لگائی تھی، اس وقت سوال ہم، تم کا نہیں، اس وقت سوال پاکستان کا ہے، ہم فوجی ہونے سے پہلے پاکستانی ہیں اور یہ ہی ہمارا اس میں کردار ہے۔

کور کمانڈر منگلا کی برطرفی سے متعلق چلنے والی خبروں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک سخت، کڑا اور شفاف خود کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے، آپ ابھی ایک خاص سوال کر رہے ہیں، کیونکہ وہ ایک سینئر افسر تھے، اس فوج میں ہر وقت یہ خودکار خود احتسابی کا نظام ہر وقت چلتا رہتا ہے، اس وقت بھی چل رہا ہے، کوئی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، کسی قسم کی کوئی کرپشن ہو، بیڈ ملٹری ڈسپلن آرڈر ہو تو احتساب کا نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی، بلکہ اگر سینئر رینک ہو تو یہ احتساب کا نظام ہو تو مزید سخت کارروائی کرتا ہے، کیونکہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ جو لوگ سینئر ہیں، ان کو زیادہ سمجھ، زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جونیئر افسران کو آپ کچھ رعایت دے سکتے ہیں لیکن سینئر افسران کو نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے کہاکہ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ 9 مئی میں کرنے والے اور کرانے والے تھے، کیوں ان کا احتساب نہیں ہو رہا، فوج نے تو اپنا احتساب کا عمل بڑی تیزی سے مکمل کرلیا، ہمیں اپنے احتساب کے نظام پر فخر ہے، یہ سسٹم الزامات پر نہیں، حقائق پر کام کرتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خطوط سے متعلق سوال کے جواب پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت ہے، اس پر میں بات نہیں کرسکتا، تاہم اس سے ہٹ کر میں کہہ چکا ہوں، دوبارہ کہوں گا کہ بغیر ثبوت کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے اور ہم ہمیشہ یہ درخواست کرتے ہیں کہ افواج پاکستان کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے کسی کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امریکا کو فوجی اڈے دیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو کوئی اڈے دیے گئے ہیں، نہ دیے جا رہے ہیں۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہاؤسنگ سوسائیٹی کے حوالے سے شروع کی گئی انکوائری کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات میں وزارت دفاع کی ہدایت کے مطابق سینئر لیول پر ایک 2 اسٹار جنرل اس کی انکوائری کر رہے ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ الزامات ایک طرف ہوتے ہیں، کیس کے حقائق تک پہنچنا ہے، اس کے محرکات تک پہنچنا ہے، حقائق سامنے لایا جائے گااور کی روشنی میں ہی سفارشات مرتب ہوں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی اس ٹریڈ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا، طورخم، چمن یا اور کسی کراسنگ پوائنٹ پر کبھی کوئی بندش ہوتی ہے تو اس کی کوئی سیکیورٹی سے متلعق وجہ ہوتی ہے، یا مقامی کشیدگی ہوتی ہے، پاکستان ٹریڈ کو کبھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تجارت کے حق میں ہے لیکن غیر قانونی تجارت کے حق میں نہیں ہے، اگر اس تجارت کی آر میں اسمگلنگ ہو، منشیات اور اسلحہ منگوایا جا رہا ہو، غیر قانونی تارکین وطن وہاں سے آ رہے ہوں، دہشت گرد اس کے اندر آرہے ہوں، اس کی قطعا کوئی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جو غیر قانونی سرگرمیاں ہیں، ان کے سائے تلے ہی جرائم اور دہشت گردی پلت ہے، اس لیے غیر قانونی اسمگلنگ، غیر قانونی سرگرمیوں کےلیے اس کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

پاک سعودی عرب تعلقات اور ایک سیاسی جماعت کی جانب سے سعودی عرب پر حکومت تبدیلی کے الزامات کے حوالے پوچھے گئے ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہت اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب اس وقت ملک میں جو سرکایہ کاری کر رہا ہے، اس میں سرمایہ کاری کرنے میں جو دلچسپی لے رہا ہے، اس حوالے سے آپ نے وزیراعظم پاکستان، دفتر خارجہ کو متعدد بار شکریہ کرتے ہوئے سنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا، یہ بہت افسوس کی بات ہے، پاکستان کا آئین بھی اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ آپ آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر دوستانہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کریں، یہ بلکل غلط ہے، اس کے پس منظر کو سمجھیں تو یہ وہ مذموم سیاسی سوچ ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں، یہ وہ ہی سوچ ہے جو نہیں چاہتی کہ پاکستان معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا ان لوگوں نے آئی ایم ایف کو لکھا نہیں کہ پاکستان کی امداد کو مشروط کیا جائے، وہ نہ دی جائے تاکہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے، کیا انہوں نے آئی ایم ایف بلڈنگ کے سامنے مظاہرے نہیں کیے، کیا امریکا میں لابنگ فرم رکھ کر امریکا کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی کہ پاکستان پر پابندیاں لگائی جائیں۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جب وہ سعودی عرب جیسے ملک جس کے ساتھ ایک مذہبی اور جذباتی لگاؤ ہے، اس طرح کی بات چیت کریں تو اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کے لیے کوئی حد نہیں رہی، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ یہ ملک معاشی طور پر ہر لحاظ سے نیچے جائے، اس کے لیے کچھ کہنے کو، کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان سرحد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد 26 سو گیارہ کلو میٹر پر محیط ہے، اس پر حکومت اور فوج نے اپنے وسائل سے باڑ لگائی، اس سے فائدہ بھی ہوا، لیکن بارڈر مینیجمنٹ کبھی بھی فول پروف نہیں ہوسکتی، امریکا اور میکسیو کو دیکھ لیں، تمام وسائل کے باوجود امریکا دعویٰ نہیں کرتا کہ وہاں کوئی غیر قانونی آمد و رفت نہیں ہے، یہ یکطرفہ نہیں، دو طرفہ ہوتی ہے، پاکستان اس سلسلے میں بھرپور کوشش کر رہاہے، دوسری طرف اس طرح سے نظر نہیں آرہا، بلکہ اس طرح کے شوائد ملتے ہیں کہ وہاں سے اسمگلنگ اور دہشت گردی کی سہولت کاری کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے  وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا  کم آمدن والے 3 ہزار سے زائد افراد کیلئے ماڈل گھر بنانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے ہمارا آمد و رفت کا طریقہ غیر روایتی تھا، اب ہم نے اس کو دنیا میں مروجہ طریقہ کار کے مطابق کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ نہیں کہ کوئی علاج یا کسی اور وجہ سے یہاں آئے اور پتا ہی نہ چلے کہ وہ کہاں گیا، اس کے علاوہ کئی دیگر عوامل بھی بارڈر مینیجمنٹ میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اور اس کے لیے ہم دہشت گردوں، ان کے سر پرستوں اور سہولت کاروں کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کو واپس بھیجنے کا فیصلہ وسیع تر ملکی مفاد میں کیا گیا، اب تک 5 لاکھ 63 ہزار 639 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں تاہم لاکھوں افغان شہری اب بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

میجرجنرل احمد شریف نے کہا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا فیصلہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں حکومت پاکستان کی طرف سے کیا گیا، کیونکہ جہاں ایک طرف معشیت پر مسلسل بوجھ پڑ رہا تھا، وہاں ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، دنیا کے کسی بھی ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کو دوسرے ملک میں نقل و حرکت کی کھلی اجازت نہیں دی جاتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد اور ان کے سہولت کار امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطےمیں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار کسی سےڈھکا چھپا نہیں، خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادار دہشت گردوں کے مذموم ارادوں کی راہ میں آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں اور قربانیوں کی ایک داستان رقم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوری 2024 میں مچھ ایف سی کیمپ پر بی ایل اے کے دہشت گردوں نے حملہ کیا، جسے سیکیورٹی فورسز نے کمال بہادری سے ناکام بنایا ، اس حملے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت قوم کے 4 بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ 24 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 16 مارچ 2024 کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا، اس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل کاشف اور کپٹین احمد سمیت 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جب کہ 6 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے جواب میں افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی محفوظ پنا گاہوں کو نشانہ بنایا جس میں 8دہشتگردوں کو ٹھکانے لگاایا گیا جو پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردی کی ناکام کارروائیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی فورسز دشمن کے عزائم کو ناکام بنا رہی ہیں، اس کی ایک اور مثال 20 مارچ 2024 کو گوادر پورٹ اتھارٹی کالونی پر 8 دہشت گردوں کا حملہ ہے جسے پاک فوج کے جوانوں نے جواں مردی سے ناکام بنایا اور آٹھوں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اندوہناک واقعہ 26 مارچ 2024 کوخیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں پیش آیا جہاں داسو ڈیم پر کام کرنے والی چینی انجینئرز کی گاڑی کو خود کش بم حملہ آور نے نشانہ بنایا، اس کے نتیجے میں 5 چینی باشندے اور ایک پاکستانی لقمہ اجل بن گئے، اس خود کش حملے کی کڑیاں بھی سرحد پار سے جا ملتی ہیں ، اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی، دہشتگرد، سہولت کاروں کا کنٹرول بھی افغانستان سے کیا جارہا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ خود کش بمبار بھی افغان شہری تھا، افواج پاکستان دہشتگردی کے اس گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کرتی ہے، اور ان کے ذمہ داروں کے انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے ہر ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں، اسی طرح 25 مارچ 2024 کو تربت میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کے دوران بھی پاک فوج کے جوان نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ 4 دہشتگرد جہنم واصل کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 16 اور 17 اپریل 2024 کو افغانستان سے متصل شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے غلام خان میں دہشتگردی کے غرض سے دراندازی کرنے پر 7 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جن میں سے ایک کی شناخت ملک الدین مصباح کے نام سے ہوئی جو افغانستان کے صوبے پتیکا کا رہائشی تھا اسی طرح 23 اپریل کو بلوچستان کے علاقے ضلع پشین میں بھی سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اس گرفتار دہشتگرد کا نام حبیب اللہ ولد خان محمد تھا جو کہ افغانستان کے عالاقے اسپن بلدک کا رہائشی تھا، افغان دہشتگرد نے اپنے بیان میں پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا جیسا کہ آپ ویدیو میں دیکھ بھی سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی اس تازہ لہر کی بڑی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پڑوسی ملک افغانستان سے ملنے والی اس طرح کی سہولیات اور اس کے علاوہ جدید اسلحہ کی فراہمی بھی ہے، آرمی چیف کئی بار واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا علاقائی امن و استحکام کو متاثر کرنا اور عبوری افغان حکومت کی دوحہ امن معاہدے سے انحراف ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کی تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی، اس ضمن میں رواں سال دہشتگردوں کی محفوظ پناگاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے پاکستان نے ایران کے سرحدی علاقے سیستان اور بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن مرگ بر سرمچار کرتے ہوئے متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، ہمیں امید ہے کہ مچبت سمت میں کوششیں خطے میں قیام امن کے لیے باور ثابت ہوں گی، اور ماضی میں ان کوششوں کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اب ان سے اجتناب کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں سال 2024 میں ہونے والے آپریشن کا جائزہ لیتے ہیں، سال 2024 میں مجموعی طور پر دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف 13 ہزار 135 چھوٹے بڑے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، اس دوران 245 دہشتگردوں کو واصل جہنم، 396 کو گرفتار کیا گیا، دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سو سے زائد آپریشنز افواج پاکستان، پولیس، انٹیلیجنس ایجنسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے دوران 19 ہائی ویلیو ٹارگٹ یعنی انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائیں گئیں، رواں سال ان آپریشنز کے دوران 2 افسر اور 60 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ان بہادر سپوتوں اور ان کی لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں ملک کی امن و سلامتی اور آپ کے مستقبل پر قربان کردیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کور کمانڈر کونفرنس کے اعلامیے میں آرمی چیف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کی حمایت حاصل ہے، مسلح افواج پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، دہشتگردی کے خلاف ہماری یہ جنگ آخری دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ آج عوام اور افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی بدولت ملک تیزی کے ساتھ امن کے راستے پر گامزن ہے، پاکستان کے وہ علاقے جہاں شہریوں کا جانا دشوار تھا آج وہاں امن بحال ہوچکا ہے، یہ سب کچھ عوام، افواج کی لازوال قربانیوں کے مرہون منت ہی ہو سکا ہے، خود کش دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہادتیں دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کی عکاسی ہے اور واضح ہے کہ ان دہشتگردوں کا ریاست پاکستان، خوشحال پاکستان اور دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان کے مطابق اس کے ساتھ ویسٹرن بارڈر مینجمنٹ ریجیم کے تحت جو کام جاری ہیں وہ پایہ تکمیل کو پہنچنے والی ہیں، بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان سرحد پر 98 فیصد سے زائد کام مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ اپک ایران بارڈر پر 91 فیسد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کی روک تھام کے لیے 753 قلعے مکمل کیے جاچکے ہیں، جبکہ پاک ایران بارڈر پر 89 قلع مکمل کیے جاچکے ہیں اور باقیوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد پر اگر ہم لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات کریں تو آپ سب کے علم میں ہے کہ ہمیں بھارت کی جانب سے لگاتار خطرات ہیں، بھارت ہمیشہ کی طرح اندورنی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے جو منصوبہ بندی کر رہا ہے ، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اس سے با بخوبی آگاہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال بھی متعدد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی، آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے، اپنی سالمیت اور خود مختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

Back to top button