بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

ایس ای سی پی کی اسلامک کیپٹل مارکیٹس پر بین الاقوامی کانفرنس مئی 29 کو ہو گی

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسلامک فنانس کے بین الاقوامی ادارے ’اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشن‘ کے تعاون سے اسلامک کپیٹل مارکیٹس پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس اسلام آباد میں 29 مئی بروز پیر منعقد ہو گی ۔ کانفر نس کا موضوع اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کی ترقی اور جدت اور بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں پاکستان میں اسلامک فنانشل مارکیٹ کو فروغ دینا ہے۔


ایس ای سی پی کے چئیرمین چیئرمین عاکف سعید نے پہلی بین الاقوامی اسلامک فنانس کانفرنس بارے بریفنگ دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان ایک جامع اور متحرک مالیاتی نظام ، جو کہ شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے ۔ انہوں نے صحافیوں کو کانفرنس کے ایجنڈے ، دیگر ممالک سے شامل ہونے والے شرکاء اور ماہرین اور کانفرنس کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ عاکف سعید نے کہا ایس ای سی پی مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے اسلامی مالیات میں عالمی معیارات کے نفاذ کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس کے دوران ، مقامی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز اسلامی مالیاتی صنعت کےاہم مسائل ، جدید مالیاتی ماڈل اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات چیت کریں گے۔


بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے وفاقی وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار خطاب کریں گے۔ کانفرنس کے دیگر اہم شرکاءمیں اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشنز کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین محترم جناب شیخ ابراہیم بن خلیفہ الخلیفہ، وزیر مملکت برائے اصلاحات اشفاق تولہ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان عاکف سعید اور ایس ای سی پی میں اسلامک فنانس ڈیپارٹمنٹ کے کمشنر عبدالرحمن وڑائچ شامل ہیں۔ کانفرنس میں پاکستان اور بحرین، ملائیشیا، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے عالمی اسلامی مالیاتی خدمات کی صنعت کے پالیسی ساز اور ماہرین کی شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں کیپٹل مارکیٹ، میوچل فنڈ انڈسٹری، نان بینکنگ فنانشل سیکٹر اور تکافل انڈسٹری پر الگ الگ سیشن ہوں گے۔

مزید پڑھیے  ڈالرکی قدر 60 پیسے بڑھ کر 158 روپے 21 پیسے ہوگئی


ایس ای سی پی نے پاکستان میں اسلامی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے استحکام اور مالیاتی لین دین میں شفافیت اور کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات کیں ہیں۔ اس حوالے سے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کو جامع بنانے کے لیےلئے ایک اعلی سطحی ٰ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے حکمت عملی فراہم کرے گی۔

Back to top button