بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

صدر آصف اور وزیراعظم محمد کا آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ دن 1971 میں آبی ذخائر کے کنونشن، جسے رامسر کنونشن بھی کہا جاتا ہے، کے نفاذ کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان اس معاہدے کا رکن ہے، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی ذخائر اور ان کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

صدرِ مملکت نے بتایا کہ دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن 2026 کا موضوع، “آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری”، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آبی ذخائر صرف ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ زندہ ثقافتی مناظر بھی ہیں، جو صدیوں کے دوران مقامی آبادیوں کی محنت اور علم سے تشکیل پائے ہیں۔ پاکستان بھر میں آبی ذخائر سے وابستہ روایتی علم اور طریقے روزگار، خوراک کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور فطرت کے ساتھ متوازن تعلق کو مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت مند آبی ذخائر سیلاب کے خطرات کم کرتے ہیں، ساحلی علاقوں کا تحفظ کرتے ہیں، روزگار کو سہارا دیتے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لاتے ہیں۔ ان کی نظراندازی ماحولیاتی نقصانات میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ ان کی بحالی سے معیشت اور ماحول کو نمایاں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان کے آبی ذخائر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف دفاع کی اولین صف کا کردار ادا کرتے ہیں۔

آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کے متنوع آبی ذخائر، جن میں دریائی سیلابی میدان، بلند پہاڑوں کی جھیلیں اور گلیشیئر، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو ماحولیاتی نظام شامل ہیں، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی، پانی کے نظم و نسق اور آفات کے خطرات میں کمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، سندھ میں آبی ذخائر کو شدید دباؤ اور مسائل درپیش ہیں، جہاں پانی کی کمی اور سمندر کی سطح میں اضافے نے صورتحال سنگین بنا دی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ آبی ذخائر لاکھوں پاکستانی شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، اور ان کے تحفظ کے بغیر آمدنی میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، غیر محفوظ پانی اور سیلاب و خشک سالی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) 1960 کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ آبی ذخائر عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے لیے شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیر سے بچاؤ میں مددگار ہیں۔ پاکستان کے آبی ذخائر، بشمول جھیلیں، گلیشیئر، اندرونی ذخائر اور ساحلی و مینگروو نظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی اور پانی کے مؤثر نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی شہریوں کے لیے آبی ذخائر روزگار اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، اور ان میں کمی کے نتیجے میں قومی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور سیلاب و خشک سالی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ آبی ذخائر کو جاندار ثقافتی اور ماحولیاتی اثاثے سمجھ کر ان کا تحفظ کیا جائے۔

صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف ماحولیاتی معاملہ نہیں بلکہ عوامی فلاح اور قومی مدافعت کا تقاضا بھی ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button