
وزیراعظم کی سال کے آخر تک پیداواری نگرانی کا نظام مکمل کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے سیلز ٹیکس کے مقاصد کے لیے مینوفیکچرنگ کے تمام شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کا نظام رواں سال کے آخر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وہ آج اسلام آباد میں ایف بی آر کی اصلاحات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے پیداواری شعبے کا جائزہ لینے اور اس کی صلاحیت کا تخمینہ لگانے پر ایف بی آر کی ٹیم کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ کیمروں کے ذریعے پیداوار کی نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے رقم اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروباری ادارے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جبکہ رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کرنے والے پیداواری شعبے کے کاروباری ادارے انتہائی تعریف کے مستحق ہیں۔
وزیراعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پیداوار کی نگرانی کے نظام کی آڈٹ رپورٹ کی تعریف کی۔
انہوں نے ٹیکس کی صلاحیت اور حقیقی ٹیکس وصولیوں کے درمیان فرق سے متعلق جامع رپورٹ مرتب کرنے پر بھی ایف بی آر ٹیم کی کوششوں کو سراہا ہے۔
اجلاس کو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ٹیکس نگرانی کے نظام کے بارے میں بتایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں یہ نظام مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔
اس وقت ٹیکسٹائل، پانی کی بوتلوں، جوس اور دودھ کے ڈبوں کے شعبوں میں نگرانی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے، جبکہ ان شعبوں کے لیے آلات کی خریداری پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ان تمام پیداواری شعبوں میں نگرانی کے نظام اس سال اکتیس دسمبر تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔















