
پاکستان کے آبی حقوق کو متاثر کرنے کی ہر کوشش کےسنگین نتائج برآمد ہوں گے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے آبی حقوق کو متاثر کرنے کی ہر کوشش کے دو طرفہ تنازع سے کہیں بڑھ کر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات آسٹریا میں ڈپلومیٹک اکیڈمی آف ویانا کے اشتراک سے پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ "انٹرنیشنل واٹر سمپوزیم” سے بذریعہ ویڈیو لنک کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی سکیورٹی غذائی، معاشی اور بالآخر قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ پانی انسانی بقا، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ دریاؤں کے حامل ممالک کے لیے جغرافیہ مستقل باہم انحصار پیدا کرتا ہے اور سوال یہ ہے کہ مشترکہ پانیوں کا انتظام تعاون اور طے شدہ قانونی فریم ورک کے تحت چلایا جائے گا یا انہیں سیاسی دباؤ اور محاذ آرائی کا آلہ کار بنایا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دریائے سندھ کا نظام ہزاروں سال سے تہذیبوں کا ضامن رہا ہے اور آج یہ ڈھائی کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے اور جبر کی بجائے تعاون، محاذ آرائی کی بجائے بات چیت اور یکطرفہ اقدامات کی بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی کے غلط استعمال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے (IWT) کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کی ذمہ داریوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خطے کے امن و سلامتی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری، معاہدے کی ذمہ داریوں اور پانی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کو مسترد کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔















