بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان اور کرغزستان کا اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے صدر مملکت آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر سادیر ژاپاروف کے درمیان چولپون آتا میں ہونے والی ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران ہوا۔

ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں صدور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے ایوان ہائے صنعت و تجارت، سرمایہ کاری کے فروغ کے اداروں، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو فروغ دینے، مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد اور جوائنٹ وینچرز کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اعلامیے میں توانائی کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات کا بھی ذکر کیا گیا، خصوصاً کاسا-1000 منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کو دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ٹرانسپورٹ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں طے شدہ معاہدوں پر عملی پیش رفت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے پاکستان کی بندرگاہوں کی استعداد سے مؤثر استفادہ، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کے فروغ، بین الاقوامی تجارتی راہداریوں کی ترقی اور کرغزستان کی ٹرانزٹ و لاجسٹک صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور یوریشین اکنامک یونین کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں مال برداری کے حجم میں اضافے اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کے پائیدار نظام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

دونوں ممالک نے تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے تبادلوں، طبی تعلیم، صحت عامہ اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

علاقائی اور عالمی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور او آئی سی سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

کرغزستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد ثابت ہوگا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق پرامن مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں پر استوار ہیں۔

انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے، عالمی امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں اضافے کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر زرداری نے کرغزستان کو 2027-2028 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی۔

اس موقع پر کرغزستان کی وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔

صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں رخ اوردو کلچرل سینٹر میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جبکہ بعد ازاں کرغز صدر نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دی۔ صدر زرداری اس دورے میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ کرغزستان پہنچے تھے۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button