
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیاسی مشاورت اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس
ویلنگٹن میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچویں دور کی سیاسی مشاورت اور تیسرے دور کے مشترکہ تجارتی کمیٹی (JTC) کے اجلاس منعقد ہوئے، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
سیاسی مشاورت کی مشترکہ صدارت پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے ایشیا پیسیفک سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی اور نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ و تجارت کے امریکا و ایشیا گروپ کے ڈپٹی سیکریٹری گراہم مورٹن نے کی۔
اجلاس کے دوران دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان شعبوں میں اعلیٰ سطحی روابط، اقتصادی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے اور عوامی روابط شامل ہیں۔
سفیر سید علی اسد گیلانی نے نیوزی لینڈ کے فریق کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس دوران بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
نیوزی لینڈ کے ڈپٹی سیکریٹری گراہم مورٹن نے مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار کو تسلیم کیا۔
دوسری جانب مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ زراعت، لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم اور خدمات کے شعبوں میں تعاون پر خصوصی بات چیت ہوئی۔
دونوں ممالک نے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور پائیدار زراعت میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں اون کی پیداوار اور پودوں کے تحفظ کے شعبے میں تکنیکی تعاون کے امکانات کا جائزہ بھی شامل تھا۔ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کا ایک اہم نتیجہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلیمی تعاون کے انتظام پر دستخط تھے، جس سے تعلیم کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید گہرا ہونے کی توقع ہے۔















