
قومی اسمبلی نے وزارت داخلہ اور دیگر ڈویژنز کے گرانٹس مطالبات منظور کر لیے
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے وزارت داخلہ، قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن اور غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق گرانٹس کے مختلف مطالبات منظور کر لیے۔
ایوان نے وزارت داخلہ سے متعلق چار مطالباتِ زر کی منظوری دی، جو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیے۔ ان مطالبات کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی تمام تحاریک ایوان نے مسترد کر دیں۔
کٹوتی کی تحاریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزارت داخلہ کے مختلف اداروں میں کی جانے والی اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) اور صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹرز کو فعال بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن اور پاسپورٹ تصدیقی نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی سہولت کو نادرا دفاتر میں بھی فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے، جہاں جامع ای گورننس نظام کے ذریعے شہریوں کو جدید اور مؤثر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن سے متعلق تین مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے۔ ان مطالبات کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں۔
بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کو نئی سمت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے زرعی شعبے کے استحکام کے لیے 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی مشینری پر عائد تمام اقسام کے محصولات ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن، جدید سائلوز کے قیام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ معیاری بیجوں کی فراہمی اور فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایوان نے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق تین مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں۔
بحث کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے غربت کا خاتمہ و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحق خاندانوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہے، جبکہ بلوچستان کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ پاکستان بیت المال کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے اقدامات کے ذریعے 28 لاکھ اسکول سے باہر بچوں میں سے 20 لاکھ بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کیا جا چکا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اب کل صبح گیارہ بجے دوبارہ منعقد ہوگا۔














