بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

آر-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا امریکہ۔ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم

پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقدہ آر-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ ایسے تنازع کے خاتمے کی جانب ایک تعمیری قدم ہے جو علاقائی سلامتی، استحکام، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چینز اور تجارت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا۔

وزرائے خارجہ نے اس مفاہمت کے حصول میں کردار ادا کرنے والے علاقائی اور بین الاقوامی فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اعلامیے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تاریخی پیش رفت کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے اس کامیابی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، جبکہ مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں قطر کے تعاون کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اس اہم معاملے پر پاکستان کی مسلسل مشاورت اور قریبی رابطوں کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔

وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کی بنیاد پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کو جلد اور کامیابی سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ باقی ماندہ مسائل کا مستقل، قابلِ تصدیق اور تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مذاکراتی عمل میں خطے کے ممالک، بالخصوص خلیجی عرب ریاستوں اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں کے سلامتی و استحکام سے متعلق تحفظات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے اور طویل المدتی علاقائی استحکام کو فروغ ملے۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی مسئلے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، حقِ خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ 4 جون 1967ء کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزرائے خارجہ نے غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر وزرائے خارجہ نے مصر کے صدر Abdel Fattah el-Sisi کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے ان کے وژن کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے اہم رہنمائی قرار دیا۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button