بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

پاکستان میں صرف 20 فیصد نومولود بچوں کو پہلےگھنٹے میں ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے، ماہرین صحت

بچے کی پیدائش کے بعد زندگی کا پہلا گھنٹہ انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں ہر پانچ میں سے صرف ایک نومولود کو پیدائش کے پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ مل پاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق خاندان، اسپتال، کام کی جگہ اور معاشرے کی جانب سے مناسب تعاون نہ ملنے کے باعث بہت سی مائیں اپنے بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ نہیں پلا پاتیں، جس کے سنگین نتائج سامنے آرہے ہیں۔

یہ انکشاف کراچی پریس کلب میں ورلڈ مدر بریسٹ فیڈنگ ویک کے سلسلے میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی (ایس آئی سی ایچ این) کے زیر اہتمام یونیسیف اور محکمہ صحت سندھ کے تعاون سے منعقدہ میڈیا آگاہی و تربیتی ورکشاپ میں کیا گیا۔

ایس آئی سی ایچ این کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر سید جمال رضا نے کہا کہ بچے کو ماں کا دودھ پلانا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والد، دادا، دادی، نانا، نانی، ڈاکٹرز، نرسز، آجر، کمیونٹی رہنما اور پالیسی ساز اگر ماں کا ساتھ دیں تو بچوں کو بہتر صحت مند زندگی دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ سے کم عمر وہ بچے جو ماں کا دودھ نہیں پیتے، ان میں موت کا خطرہ صرف اور صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کے مقابلے میں 15 گنا تک زیادہ ہوسکتا ہے، جبکہ جزوی طور پر ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں یہ خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چھ ماہ سے کم عمر صرف 48 فیصد بچے مکمل طور پر ماں کا دودھ پیتے ہیں، یعنی نصف سے بھی زیادہ بچے اس قدرتی اور مکمل غذا کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔

تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ بچوں میں بوتل سے دودھ پلانے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ورکشاپ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2006 سات میں دو سال سے کم عمر بچوں میں بوتل فیڈنگ کی شرح 32 فیصد تھی، جو 2012 تیرہ میں بڑھ کر 41 فیصد اور 2024 میں 48 فیصد تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق بوتل سے دودھ پلانے کے دوران صفائی اور صاف پانی کا مناسب انتظام نہ ہو تو بچے مختلف جراثیم اور انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔ دودھ میں پانی کی مقدار درست نہ ہونے سے بچے کو مطلوبہ غذائیت بھی نہیں ملتی، جبکہ غلط طریقے سے خوراک دینے کے دیگر صحت کے خطرات بھی موجود رہتے ہیں۔

پروفیسر جمال رضا کے مطابق پاکستان میں ماں کا دودھ کم پلانے کے باعث ہر سال تقریباً 33 ہزار 700 بچوں کی اموات سے تعلق بنتا ہے، جن میں اسہال اور نمونیا جیسی قابلِ روک تھام بیماریاں اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کم شرحِ بریسٹ فیڈنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات پر سالانہ 888 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے جاتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ بچے کو پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ ضرور پلایا جائے اور پہلے چھ ماہ تک اسے صرف ماں کا دودھ دیا جائے۔ پانی، فارمولا دودھ یا دوسری خوراک صرف طبی ضرورت کی صورت میں دی جانی چاہیے۔ چھ ماہ کے بعد مناسب اضافی غذا کے ساتھ ماں کا دودھ دو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے سندھ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قانون کا مقصد ماں کے دودھ کے تحفظ اور بچوں کے لیے مخصوص متبادل دودھ کی مصنوعات کی تشہیر کو منظم کرنا ہے۔ قانون کے تحت 36 ماہ تک کے بچوں کے لیے مخصوص مصنوعات کی براہ راست تشہیر، کراس پروموشن اور بعض اقسام کی اسپانسرشپ سمیت دیگر سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یونیسیف کے سندھ فیلڈ آفس کے سربراہ پریم بہادر چند نے کہا کہ غلط معلومات، سماجی دباؤ اور مناسب تعاون نہ ملنے کے باعث ماؤں کے لیے بچوں کو بہتر انداز میں ماں کا دودھ پلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اس موضوع پر مسلسل، درست اور حساس انداز میں رپورٹنگ کریں۔

پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ یاسمین نے کہا کہ خواتین کو بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں مناسب رہنمائی اور مشاورت کے ساتھ خاندان اور ملازمت کی جگہ پر بھی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یونیسیف کے ڈاکٹر مظہر اقبال نے ماں اور بچے کے لیے ایک ایسی ’’گرم زنجیر‘‘ کی ضرورت پر زور دیا جس میں طبی عملہ، خاندان، کام کی جگہ اور پوری کمیونٹی اپنا کردار ادا کرے۔

ورکشاپ میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ماں کا دودھ صرف بچے کی غذا نہیں بلکہ اسے بیماریوں سے بچانے والی قدرتی ڈھال بھی ہے۔ اگر خاندان اور معاشرہ ماؤں کا ساتھ دیں اور درست معلومات عام کی جائیں تو ہزاروں بچوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button