بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

روزانہ چند سیڑھیاں چڑھنے کا بڑا فائدہ

اکثر کہا جاتا ہے کہ دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔مگر ہر فرد کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوتا، تو روزانہ چند سیڑھاں چڑھنا بھی آپ کو امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور قبل از وقت موت سے بچا سکتا ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق  میں سامنے آئی۔

East Anglia یونیورسٹی کی اس تحقیق میں لگ بھگ 5 لاکھ افراد پر ہونے والی 9 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیڑھیاں چڑھنے کی عادت سے کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ 24 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عادت دل کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج سے موت کا خطرہ 39 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے سے دل کی شریانوں اور نظام تنفس دونوں کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ چہل قدمی کے مقابلے میں سیڑھیاں چڑھنے سے 4 گنا زیادہ کیلوریز جلتی ہیں جس سے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوتا ہے۔جسمانی وزن میں اضافے سے امراض قلب سمیت دیگر دائمی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی جائزہ لیا گیا تھا کہ امراض قلب اور قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرنے کے لیے روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔محققین نے تسلیم کیا کہ یہ تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ کتنی سیڑھیاں چڑھنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے  کورونا مزید 144جانیں لے گیا،5ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ

انہوں نے بتایا کہ ماضی کی تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ روزانہ 6 منزلیں یا 60 سیڑھیاں چڑھنے سے صحت بہتر ہوتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیشتر افراد کے لیے اتنی سیڑھیاں چڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ روزانہ 10 یا 20 سیڑھیاں چڑھنے سے بھی صحت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہوتا ہے۔محققین کے مطابق ضروری نہیں کہ آپ ایک وقت میں ہی بہت زیادہ سیڑھیاں چڑھیں، اسی طرح کسی مخصوص مقام کی سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت بھی نہیں، ہر جگہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانفرنس کے موقع پر پیش کیے گئے۔اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ سیڑھیاں چڑھنے کی عادت سے میٹابولک سینڈروم سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے اجتماع، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ہائی بلڈ شوگر اور خون میں چکنائی بڑھنے جیسے امراض کے مجموعے کو میٹابولک سینڈروم کہا جاتا ہے، جس سے امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ 2 اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔اسی طرح دل اور خون کی شریانوں کی فٹنس بہتر ہوتی ہے جبکہ جسمانی وزن میں بھی کمی آتی ہے۔

Back to top button