بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

صدر مملکت اور وزیراعظم کی رمضان المبارک کے آغاز پر قوم کو مبارکباد

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے رمضان المبارک کے آغاز پر قوم کو مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر تقویٰ پیدا کرنے کیلئے رمضان کے روزے فرض کیے۔ رمضان المبارک کا مہینہ محتاط انداز میں زندگی گزارنے کی تربیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔

صدر نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر پہلے سے زیادہ شدید اور خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرماتا ہے۔ کورونا سے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کے تحفظ کیلئے پرہیز گاری کی صفت اپنانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ عبادات کی انجام دہی محفوظ ماحول میں کرنا ہوگی اور اپنی جانوں پر ظلم نہیں کرنا۔ نماز تراویح اور اعتکاف سے متعلق طے ایس او پیز پر بھی بھرپورعمل کریں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ علمائے کرام کی ہدایت کے مطابق نماز کے دوران 3 فٹ کا فاصلہ رکھیں، وضو گھر پر کریں اور جائے نماز ساتھ لے جائیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ غیر ضروری طور پر سماجی میل ملاپ سے پرہیز کرنا ہوگا۔ طہارت اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ رمضان میں زکوة اور فطرانہ بڑھ چڑھ کر ادا کریں، ضرورت مندوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان المبارک کی آمد پر پوری قوم اور ملت اسلامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے کہ ہمیں پھر رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ روزہ انسان کے اندر پرہیزگار، ایثار اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ بھوک، پیاس کو برداشت کرنے سے دوسروں کا احساس اور ہمدردی کا جذبہ بڑھتا ہے۔ اس وقت عالم انسانیت کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے۔ گزشتہ رمضان المبارک میں قوم کا وبا کو ممکن حد تک روکنا قابل ستائش تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سال بھی علما و مشائخ کی مشاورت سے نماز تراویح کے لیے متفقہ تدابیر بنائی گئی ہیں، ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس نازک صورتحال کا مقابلہ متحد ہو کر کرنا ہے۔ بابرکت مہینے میں ایثار اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہمیں ضرورت مندوں کا خصوصی خیال رکھنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ ان مبارک گھڑیوں میں دعا کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے عالم کو اس آزمائش سے نکالے۔ اللہ تعالی پاکستانی قوم کی مدد فرمائے اور ہمیں آزمائش کی اس گھڑی میں صبر وتحمل کے ساتھ کامیابی عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button