بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

عبدالصمد انقلابی کا 6 نومبر کو مقبوضہ کشمیر میں یوم شہداء منانے کا مطالبہ

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ و مجاہد ملت اور اسیرِزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری کئے گئے ایک بیان میں شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1931ء سے لیکر اب تک کے تمام شہدائے جموں کشمیر کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہدائے جموں کشمیر اور شہدائے جموں 6 نومبر نے ایک مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی بے مثال قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیرِزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے جموں وکشمیر میں 6 نومبر کو یوم شہداء منانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیرِزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے اپنے پیغام میں نومبر 1947 میں جموں کے قتل عام کو انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ 1947 کے واقعات کی غیرجانبدارانہ اور تحقیق پر مبنی تحقیقات کی حمایت کرے اور بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی آزادانہ نگرانی یقینی بنائے۔5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قوانین، اراضی کے ضوابط اور دیگر پالیسیوں میں تبدیلیوں نے مقامی آبادی کے حقوق اور آبادیاتی شناخت کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے علاقے کے عوام کے سیاسی، معاشی اور جائیداد کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ 6 نومبر متاثرہ خاندانوں کی تکالیف کی یاد دلاتا ہے اور متاثرین کو یاد رکھنے کا مقصد تاریخی حقائق کا تحفظ، انصاف کا فروغ اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہونا چاہیے۔

سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی مختلف عارضوں میں مبتلا اور ہسپتال میں علاج و معالجہ کی اشد ضرورت ہیں سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی بدستور پولیس کی نگرانی میں تاحیات گھر میں نظربند کردیا گیا تھا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما و مجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کی حمایت تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے حوصلے اور تقویت کا باعث ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button