بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیرمضامین

تین بڑے عزازات کے حامل فرزند کشمیرنائب صوبیدار سخی محمد خان شہید

تحریر، ڈاکٹر محمد یونس فاروقی

تمغہ جرات،ستارہ حرب اور تمغہ جنگ،یہ تین بڑے آرمی اعزازات حاصل کرنے والے فرزند کشمیر نائب صوبیدار سخی محمد خان ،2،AK رجمنٹ پاک آرمی 313 تیموری سیکنڈ بٹالین کے بہادر سپوت تھے یہ 1933 کو کشمیر کے ضلع کوٹلی تحصیل نکیال گاوں دیری گنگوٹ میں صحبت علی خان بھٹی کے ہاں پیدا ہوئے1951 کو پاک آرمی میں شمولیت اختیار کی،سروس کرتے ہوئے14 سال ہوگئے جب 1965 کی پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی،نائب صوبیدار سخی محمد خان جو جذبہ لےکر فوج میں بھرتی ہوئے تھےاب اس کو آزمانے کا وقت آگیا تھا،پھر آپ کے جوانوں اور افسروں نے سخی محمد خان کی بہادری اور شجاعت دیکھی کیسے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹےاور ان کو شکست سےدوچار کیا اپنے وطن کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی،جنگ کے بعد آپ کی بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان اور افواجِ پاکستان نے آپ کو ستارہ حرب اور تمغہ جنگ سے نوازا۔اپ بڑی شان سے غازی بن کر لوٹے،6 سال بعد 1971 کی جنگ شروع ہوئی تو آپ کو چھب جوڑیاں سیکٹر میں بھیجا گیا جہاں دشمن کا زیادہ دباو تھااور دشمن بار بار حملے کر رہاتھا جسےسخی محمد کمال دلیری سے روک رہا تھے اور ان کو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھنے دیےرہاتھے کافی دن تک آپ ڈٹےرہے 6 اور 7 دسمبر کی درمیانی شب آپ کو حکم ملا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے آپ اپنے جوانوں کو ساتھ لے کر دشمن کے علاقے میں جا کر ان پر حملہ کریں، سخی محمد خان نے اپنے جوانوں کو ساتھ لیا اور دشمن کے مورچوں پر حملہ کردیا پہلے تین مورچے تباہ کردینے اسی دوران آپ زخمی ہوگئے لیکن اپنے زخموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جوانوں کو آگے بڑھنے کا کہا اسی دوران آپ شہادت کا مرتبہ پا کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، آپ کی بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو تمغہ جرات سےنوازا۔ اپ کو اپنے گاوں میں دفن کیاگیا جہاں آپ کا مزار ہے ہر سال 6ستمبرکوسلامی دی جاتی ہے اور7دسمبر کویوم شہادت منایا جاتا ہے،اللہ تعالی نائب صوبیدار سخی محمد خان شہید کے درجات بلندفرمایاوراہل خانہ کوصبراورحوصلہ عطا فرمائے آمین

یہ بھی پڑھیے

Back to top button