
احسن اقبال کی اہم شاہراہوں اور موٹرویز پر کام تیز کرنے کی ہدایت
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو اہم قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر جاری کام تیز کرنے اور عوامی فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وہ اسلام آباد میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت این ایچ اے کے جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 216 کلومیٹر طویل شندور گلگت روڈ منصوبے پر، جس کی لاگت تقریباً 50 ارب روپے ہے، 67.33 فیصد فزیکل پیش رفت حاصل کر لی گئی ہے، جبکہ 153 کلومیٹر طویل چترال بونی مستوج شندور روڈ منصوبے پر 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 17 ارب روپے سے زائد ہے۔
کراچی کوئٹہ چمن روڈ (این-25) کی 273 کلومیٹر طویل دو رویہ توسیع اور بحالی کے منصوبے پر 19.25 فیصد فزیکل پیش رفت ہوئی ہے، جس کی لاگت 183 ارب روپے سے زائد ہے۔
وفاقی وزیر نے کراچی سے قلات تک اور وڈھ خضدار سمیت اس اہم تجارتی راہداری پر کام تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انڈس ہائی وے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ این-55 پر 221.9 کلومیٹر طویل شکارپور راجن پور اضافی کیرج وے منصوبے پر 62 فیصد فزیکل پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 44 ارب روپے سے زائد ہے۔
دوسری جانب این-55 کے 121.5 کلومیٹر طویل راجن پور ڈیرہ غازی خان سیکشن کی لاگت 63 ارب روپے سے زائد ہے، تاہم زمین کے حصول اور آبادکاری کے مسائل کے باعث اس کے ایوارڈ لیٹرز جاری ہونا باقی ہیں۔
این-55 کے 208.19 کلومیٹر طویل ڈیرہ غازی خان ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کا ٹھیکہ دیا جا چکا ہے اور ٹھیکیداروں کی جانب سے کام شروع کرنے کے لیے وسائل اور مشینری کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 111 ارب روپے ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد سکھر موٹروے (ایم-6)، جس کی پی سی ون لاگت 363 ارب روپے ہے، اور لواری ٹنل کے الیکٹریکل و مکینیکل کام، جن کی لاگت 33 ارب روپے سے زائد ہے، اس وقت خریداری کے مرحلے میں ہیں۔
احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کرکے خریداری کا عمل تیز کیا جائے تاکہ ان اہم منصوبوں پر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے 210 کلومیٹر طویل این-50 یارک سے ژوب روڈ کی دو رویہ توسیع اور بہتری کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا، جس میں ساگو، ژوب بائی پاس بھی شامل ہے۔ 76 ارب روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر 10 فیصد فزیکل پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد تیز کیا جائے اور اس کی راہ میں حائل مالی و انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں۔
احسن اقبال نے ایم-6 سکھر حیدرآباد موٹروے، این-55 انڈس ہائی وے، این-25 کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ اور کوئٹہ ژوب روڈ نیٹ ورک کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔















