
پاکستان کا مسلح تنازعات کی روک تھام کے لیے پیشگی سفارت کاری پر زور
پاکستان نے زور دیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو جنگ کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ترین طریقہ پیشگی سفارت کاری، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کا پُرامن حل ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مباحثے کا موضوع ’’خواتین، امن اور سلامتی: آئندہ 25 برس میں وعدوں پر عمل درآمد‘‘ تھا۔
سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ تنازعات کی بنیادی وجوہات، بشمول طویل غیر ملکی قبضے اور حقِ خودارادیت سے محرومی، کے حل پر توجہ دے اور امن کی کوششوں میں خواتین کی بامعنی شرکت کو یقینی بنائے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 کی 26ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اصولی پیش رفت کے باوجود تنازعات سے متاثرہ خواتین کو درپیش زمینی حقائق اور عالمی وعدوں کے درمیان اب بھی تشویش ناک خلیج موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محض وعدے کرنے کے بجائے ان پر مؤثر عمل درآمد اور زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی خواتین کی خدمات کو اجاگر کیا اور خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کے چاروں بنیادی ستونوں پر پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پائیدار مالی وسائل کی فراہمی، جواب دہی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
پاکستانی مندوب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن سازی اور تنازعات کے بعد بحالی کے عمل میں خواتین کی مکمل، مساوی، بامعنی اور محفوظ شرکت کی حمایت جاری رکھے گا۔















