
وزیر خزانہ اور امریکی حکام کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی فریم ورک اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ، توانائی کے متبادل ذرائع، ریکوڈک منصوبے اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر گفتگو
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے محکمہ خارجہ کے سفیر یون سے بینکاک، تھائی لینڈ میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارتی فریم ورک معاہدے پر پیش رفت اور امریکا سے توانائی کی درآمدات بڑھا کر توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق انتظامات، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تقاضوں پر عمل درآمد اور امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے سرمایہ کاری کی مالی معاونت کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
محمد اورنگزیب نے ریکوڈک منصوبے، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون، منصوبوں کے تحفظ اور نجی سرمایہ کاری متحرک کرنے کے مواقع کو اجاگر کیا۔ ملاقات میں بوئنگ طیاروں کی خریداری اور ان کے لیے مالی معاونت، ہوا بازی سے متعلق منظوریوں، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار اور ترسیلات زر و یورو بانڈز کو ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دینے کے ممکنہ استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دریں اثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے حکومت کے ساختی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی کے وفد کو ستمبر میں پاکستان کی جانب سے بانڈز کے کامیاب اجرا، سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور سواپ و فارورڈ واجبات میں کمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان مسلسل اقتصادی بہتری کے ذریعے کریڈٹ ریٹنگ کے ڈبل بی درجے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے وفد کو زرعی آمدنی پر ٹیکس، توانائی اور غذائی تحفظ، ہدفی ریلیف اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پالیسیوں کے تسلسل، اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد، سودی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی اور بیرونی مالیاتی تحفظات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ ان عوامل کو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، ساختی اصلاحات آگے بڑھانے اور برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔














