بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

‘بچے بچانے واپس گئی، مگر آگ نے راستہ روک دیا’،رضیہ نورین کی درد بھری آواز، ایک بچے کو ماں کے حوالے کرنا زندگی کا سب سے بڑا انعام قرار دے دیا

'وہ بچے میرے تھے، میں انہیں بچانا چاہتی تھی'، 14 نومولودوں کی ہلاکت پر نرس غمزدہ، ایک بچے کو ماں کے حوالے کرنا زندگی کا سب سے بڑا انعام قرار دے دیا


پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے دوران ایک بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین نے دل دہلا دینے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک بچے کو بچانے کے بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہو کر دیگر نومولود بچوں کو بچانے کی کوشش کی، لیکن آگ اچانک اس قدر شدید ہوگئی کہ وہ مزید بچوں تک نہیں پہنچ سکیں۔رضیہ نورین نے  بی بی سی کو بتایا کہ وہ کئی گھنٹوں کی ڈیوٹی کے بعد اپنی شفٹ مکمل کرکے گھر جانے کی تیاری کر رہی تھیں کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر نومولود بچوں کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

انہوں نے بتایا کہ نرسری میں اس وقت 15 نومولود بچے موجود تھے۔ آگ لگنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر ایک بچے کو اٹھایا اور اسے محفوظ مقام پر لے گئیں۔ ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی انہیں بچے کو گود میں اٹھا کر نرسری سے باہر آتے ہوئے دیکھا گیا۔

نرس رضیہ نورین نے کہا کہ وہ ایک بچے کو بچانے کے بعد دوبارہ نرسری کی جانب گئیں تاکہ باقی بچوں کو بھی باہر نکال سکیں، تاہم اسی دوران آگ نے شدت اختیار کرلی۔انہوں نے آبدیدہ ہوکر کہا کہ وہ نرسری میں موجود بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتی تھیں اور ان سے انہیں بہت لگاؤ تھا۔ ان کے بقول وہ بچوں کے پیمپر تبدیل کرتی تھیں، انہیں دودھ پلاتی تھیں اور ادویات دیتی تھیں، اسی لیے ان نومولود بچوں کے ساتھ ان کا جذباتی تعلق قائم ہو گیا تھا۔

رضیہ نورین نے کہا کہ ”وہ بچے میرے تھے، میں انہیں بچانا چاہتی تھی”، تاہم وہ باقی بچوں کو نہ بچا سکنے کے غم سے اب بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے اور اس کے پھیلنے کا عمل انتہائی تیز تھا۔ ان کے مطابق 6 بج کر 38 منٹ پر آگ لگی اور ایک منٹ کے اندر صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ نرس رضیہ نورین نے کہا کہ انہیں اس بات کا شدید افسوس ہے کہ وہ مزید بچوں کی جانیں نہیں بچا سکیں۔ ”یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں ان کی مدد نہ کر سکی، آگ بہت زیادہ تھی۔”

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہ ذہنی طور پر شدید متاثر ہوئی ہیں اور انہیں اب بھی نیند نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام بچوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہیں جنہیں وہ بچانا چاہتی تھیں لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔تاہم رضیہ نورین کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اعزاز اور ایک کروڑ روپے کے انعام سے بڑھ کر ان کے لیے اس بات کی خوشی ہے کہ وہ کم از کم ایک نومولود کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے زندہ بچ جانے والے بچے کو اس کی والدہ کے حوالے کیا تو بچے کی ماں نے انہیں جس انداز سے تشکر بھری نظروں سے دیکھا، وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے۔

رضیہ نورین نے کہا کہ انہوں نے یہ کام کسی ایوارڈ یا انعام کے لیے نہیں کیا بلکہ بچوں سے محبت اور اپنے پیشہ ورانہ فرض کی وجہ سے آگ کے باوجود بچے کو بچانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ کام کرنا ان کا شوق ہے اور وہ نومولود بچوں سے خاص لگاؤ رکھتی ہیں۔ ”ایک بچے کو بچا کر مجھے بہت خوشی ہوئی، لیکن باقی بچوں کو نہ بچا سکنے کا دکھ آج بھی میرے دل میں ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

Back to top button