
موٹاپا 229 بیماریوں کی وجہ قرار، اوسط عمر 11 سال تک گھٹنے کا خطرہ
سینئر اینڈوکرائینولوجسٹس اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موٹاپا 229 بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی اوسط عمر پانچ سے 11 سال تک کم ہوسکتی ہے، اس لیے طرز زندگی میں بروقت تبدیلی اور طبی نگرانی میں علاج ضروری ہے۔
ماہرین نے کہا کہ خوش قسمتی سے پاکستان میں موٹاپے، ذیابیطس اور ان سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے علاج کے لیے دنیا کی جدید ترین ادویات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں۔
ان خیالات کا اظہار کراچی میں گیٹز فارما کے استولا مینوفیکچرنگ پلانٹ میں منعقدہ میٹابولک ہیلتھ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا، جس میں سندھ کے مختلف شہروں سمیت ملک کے دیگر حصوں سے 1,100 سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔
ماہرین نے موٹاپے کو ذیابیطس، امراض قلب، گردوں کی خرابی، معذوری اور قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے محض ظاہری شکل یا خوبصورتی کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔
معروف اینڈوکرائینولوجسٹ ڈاکٹر عباس رضا نے کہا کہ موٹاپا 229 بیماریوں کا سبب بنتا ہے یا ان کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں 52 فیصد گھٹنوں کے جوڑوں کی بیماری، 51 فیصد ہائی بلڈ پریشر، 40 فیصد نیند کے دوران سانس رکنے، 29 فیصد فیٹی لیور، 21 فیصد دل کے دورے اور 21 فیصد ذیابیطس کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 19 فیصد افراد شدید ڈپریشن میں مبتلا پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص، یعنی تقریباً 25 فیصد آبادی، موٹاپے کا شکار ہے جبکہ خواتین اور بچوں میں بھی اس کی شرح بڑھ رہی ہے۔
ڈاکٹر عباس رضا نے غیر صحت مند طرز زندگی، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے، میٹھے مشروبات، زیادہ کیلوریز والی خوراک اور جسمانی سرگرمی میں کمی کو موٹاپے میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ زائد وزن کے شکار 75 فیصد سے زیادہ افراد خود کو موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہی نہیں سمجھتے، جس کے باعث وہ نہ اپنا طرز زندگی تبدیل کرتے ہیں اور نہ ہی پیچیدگیاں پیدا ہونے سے پہلے طبی مشورہ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر عباس رضا کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کو جدید ادویات نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ سیمیگلوٹائڈ مناسب مریضوں میں متوازن غذا، ورزش اور مستقل طبی نگرانی کے ساتھ وزن اور ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے۔
انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جبکہ بالغ آبادی میں اس مرض کی شرح 31.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ڈاکٹر عباس رضا نے کہا کہ پاکستان میں موٹاپے پر عموماً اس وقت توجہ دی جاتی ہے جب مریض ذیابیطس، امراض قلب، گردوں کی خرابی، بینائی میں کمی یا دیگر سنگین پیچیدگیوں میں مبتلا ہوچکا ہوتا ہے۔
گیٹز فارما کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان احمد نے کہا کہ کمپنی نے جدید پیداواری نظام، معیار کو یقینی بنانے اور تحقیق کے شعبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ پاکستان اور دیگر ممالک کے مریضوں کو محفوظ اور مؤثر ادویات فراہم کی جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ گیٹز فارما تقریباً 40 ممالک کو ادویات برآمد کررہی ہے اور اب مشرقی یورپ اور شمالی امریکا کی منڈیوں میں داخل ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ کمپنی پاکستانی مریضوں کی ضروریات کے مطابق علاج میں مدد کے لیے مقامی طبی اعدادوشمار بھی مرتب کررہی ہے۔
پروفیسر اے ایچ عامر نے کہا کہ جی ایل پی ون ادویات جسم کے قدرتی نظام کی طرح کام کرتے ہوئے بھوک کم کرنے اور بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر ان ادویات کے استعمال سے ہسپتال میں داخلے، معذوری اور دل و گردوں کی مہنگی پیچیدگیوں کو روکا جاسکے تو یہ مناسب مریضوں کے لیے فائدہ مند اور کم خرچ علاج ثابت ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر سعید مہر نے کہا کہ باڈی ماس انڈیکس علاج کا فیصلہ کرنے میں مددگار ہے لیکن اسے واحد پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ معالجین کو مریض کی کمر کا سائز، دیگر بیماریوں اور خوراک و ورزش کے ذریعے وزن کم کرنے کی سابقہ کوششوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
ڈاکٹر فیصل مسعود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں عالمی معیار کی وزن کم کرنے والی ادویات نسبتاً کم قیمت پر تیار کی جارہی ہیں۔ انہوں نے ادویات کی بلا تعطل فراہمی، جعلی مصنوعات کی روک تھام اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔
فورم میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق سیمیگلوٹائڈ وزن اور بلڈ شوگر میں کمی کے علاوہ دل، گردوں اور جگر کے تحفظ میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ تحقیق میں دل کی بیماری سے موت، دل کے دورے اور فالج کے مجموعی خطرے میں 20 فیصد جبکہ گردوں کی سنگین پیچیدگیوں میں 24 فیصد کمی سامنے آئی۔
ماہرین کے مطابق سیمیگلوٹائڈ استعمال کرنے والے مریضوں کے وزن میں اوسطاً تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دل، گردوں، جگر اور معیار زندگی پر بھی اس کے ممکنہ مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔
پینل مباحثے میں ڈاکٹر صائمہ عسکری، ڈاکٹر ایم اے ابراہیم، پروفیسر کریم قمرالدین، ڈاکٹر جاوید سمیع، ڈاکٹر نجم محمودی، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر شکیل حیدر اور ڈاکٹر علی اصغر نے شرکت کی۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ سیمیگلوٹائڈ کوئی معجزاتی انجیکشن نہیں اور اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر محض ظاہری وزن کم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحت مند طرز زندگی، مستند معالجین کی نگرانی، مناسب قیمت پر علاج کی فراہمی اور جعلی ادویات کی روک تھام پر زور دیا۔















