
گیسٹیک 2026 میں پہلی بار پاکستانی نجی گیس کمپنی کی شرکت، غیر ملکی سرمایہ کاری کی دعوت
پاکستان کی نجی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (UGDC) نے پہلی بار بنکاک میں جاری عالمی گیسٹیک 2026 نمائش میں شرکت کی ہے۔ گیسٹیک نمائش و کانفرنس 14 سے 17 ستمبر تک بنکاک کے BITEC میں جاری ہے۔
یو جی ڈی سی کے سی ای او غیاث پراچہ نے بنکاک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی پالیسیوں نے کمپنی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو پاکستان کی گیس مارکیٹ کی جانب راغب کرنے کے قابل بنایا ہے۔
غیاث پراچہ کے مطابق یو جی ڈی سی کا وژن ملک کی انرجی مارکیٹ کو تبدیل کرنا اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری لانا ہے، جبکہ گیسٹیک میں شرکت کا مقصد بزنس ٹو بزنس جوائنٹ وینچرز کے ذریعے گیس کی قیمت کم کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی مزید کمپنیوں کو گیس سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، کیونکہ نجی شعبے کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک گیس کے نقصانات کم کرنے، پائیدار سپلائی اور اسٹوریج کے ذریعے صارفین کو سستی گیس فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

غیاث پراچہ نے بتایا کہ یو جی ڈی سی تین غیر فعال گیس فیلڈز کو فعال کرکے خام گیس کو پائپ لائن معیار کی سپلائی میں تبدیل کر چکی ہے اور امریکی کمپنیوں سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پیوریفکیشن انفراسٹرکچر بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پھنسے ہوئے گیس ذخائر کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کے منصوبے بھی جاری ہیں، جبکہ موسمی قلت اور پریشر میں کمی سے نمٹنے کے لیے کمپنی قلیل اور طویل مدتی ایل این جی معاہدے کرتی رہی ہے۔
سی ای او یو جی ڈی سی نے کہا کہ کمپنی کمرشل زیرِ زمین گیس اسٹوریج کی بھی حامی ہے۔ ان کے مطابق گیس کے نقصانات قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جنہیں کم کرنے کے لیے صنعتی یونٹس اور رہائشی اسکیموں کے لیے نجی پائپ لائن نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز ہے۔
غیاث پراچہ نے کہا کہ ایکسون موبل، قطر انرجی، کونوکو فلپس اور ٹریفگورا جیسے عالمی اداروں کے ساتھ معاہدے کیے گئے ہیں اور ان معاہدوں کے بعد یو جی ڈی سی بین الاقوامی کمپنیوں کو نئے ڈی ریگولیٹڈ فریم ورک میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو جی ڈی سی نجی شعبے اور نجی سرمائے پر قائم ہے اور حکومتی سبسڈی کے بغیر کام کرتے ہوئے حکومت کے لیے ٹیرف اور ٹیکس آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ آزاد ہونے سے صارفین کو سستی توانائی ملنے اور صنعت میں مسابقت بڑھنے کے امکانات ہیں۔
گیسٹیک کی ویب سائٹ کے مطابق 2026 کا ایونٹ توانائی کے شعبے سے وابستہ عالمی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہا ہے۔
بنکاک میں پاکستان کی سفیر سعدیہ قاضی نے بھی یو جی ڈی سی کے اسٹال کا دورہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق انہوں نے یو جی ڈی سی کی گیسٹیک میں شرکت کو عالمی سطح پر پاکستانی کاروبار کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔
یو جی ڈی سی کے مطابق کمپنی گیسٹیک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں گیس سیکٹر میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور گیس اسٹوریج کے مواقع سے آگاہ کر رہی ہے۔ کمپنی نے اپنی شرکت کو 54 سال بعد گیسٹیک میں پاکستان کی نجی گیس کمپنی کی موجودگی قرار دیا ہے۔















