
پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں 44 کروڑ ڈالر کے معاہدے
پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل صنعت میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے 44 کروڑ ڈالر مالیت کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
یہ معاہدے آج اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران پاکستانی اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان طے پائے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدے جلد عملی منصوبوں کی صورت اختیار کریں گے اور ان پر مؤثر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے اسے سی پیک 2.0 کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں تقریباً 300 چینی مندوبین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری سے جان بچانے والی ادویات اور ویکسینز کی مقامی تیاری کو فروغ ملے گا، تحقیق و ترقی (R&D) مضبوط ہوگی اور پاکستان کو فارماسیوٹیکل برآمدات کے ایک علاقائی مرکز کے طور پر ابھرنے میں مدد ملے گی۔
علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جاری بحران نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور ثالثی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چینی شہری پاکستان کے مہمان اور بھائی ہیں، اور ان کی خوشی پاکستان کی خوشی ہے۔
بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ معاہدے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام حاصل کر چکا ہے اور اب ملک ایک اہم مینوفیکچرنگ ہب بننے کی جانب گامزن ہے۔















