
پاکستان کے معاشی اشاریے استحکام اور بہتری کی جانب گامزن ہیں: وزیرِ خزانہ
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے استحکام اور بحالی کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بات آج اسلام آباد میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کے دوران کہی۔ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ سات فیصد رہی، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں بہتری اور زرعی شعبے کی مضبوط کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت اب معیشت کو محض استحکام سے آگے بڑھا کر پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کی جانب لے جانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ بے روزگاری اور غربت جیسے سماجی مسائل سے نمٹنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے جاری معاشی اصلاحات اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ حکومت طے شدہ اہداف پورے کرنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے، خصوصاً محصولات کی پالیسی، آمدنی میں اضافہ، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے شعبوں میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کو خطے میں بدلتی صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے فعال لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت مناسب مالی ذخائر اور رسد کے انتظامات موجود ہیں اور حکومت ممکنہ حالات کے پیشِ نظر مختلف منصوبہ بندی اور جائزے کر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے، حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
اس موقع پر جین میریٹ نے حکومت کی معاشی اصلاحات کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں معاشی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی ترقی اور معاشی تبدیلی کے عمل میں ایک مضبوط شراکت دار ہے اور اصلاحاتی اقدامات، نجی شعبے کی شمولیت اور فنی تعاون کے ذریعے تعاون جاری رکھے گا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی و ترقیاتی ترجیحات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔















