بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعلیم

چین میں پاکستانی نوجوان کا خواب بی آر آئی سے پورا ہو گیا

شِنہوا کی رپورٹ کے مطابق  پاکستانی نوجوان تیمور احمد کے مطا بق بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے عظیم اقدامات چین اور پاکستان کو مزید قریب لا نے میں کا میاب ہو ئے ہیں۔اس عمل سے انہیں چین کے ساتھ تعلق زیا دہ مضبوط محسوس ہوا ہے۔سال 2023 بی آر آئی کی 10 ویں سالگرہ کے ساتھ سی پیک کا بھی 10 واں برس ہے۔ یہ 2013 میں شروع ہونے والے بی آر آئی کا علمبردار منصوبہ ہے جو پاکستان کی جنوب مغربی گوادر بندرگاہ کو چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خوداختیار خطےمیں کاشغر سے جوڑتے ہوئے توانائی، نقل وحمل اور صنعتی تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان میں چینی سفارت خانہ کے مطابق 2022 کے اختتام تک سی پیک سے پاکستان میں مجموعی طورپر 25.4 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی اور اس سے 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔اسلام آباد میں پیدا ہونے والے تیمور نے ہمیشہ ان تبدیلیوں کو محسوس کیا ہے۔انہوں نے 2016 میں اپنے مستقبل کی تلاش شروع کی تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ چین کو چن لیا کیونکہ انکے خیال میں چین میں وہ اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکتے ہیں۔

تیمور پہلی بار چین پہنچے تو انہوں نے چین کے مشرقی صوبہ جیانگ سو کے شہر وو شی کے ضلع بن ہو کی ہیوی ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ کمپنی میں کام کیا۔اگرچہ وہ زبان سے ناواقف تھے تاہم مقامی افراد کے پرجوش جذبے نے انہیں اپنائیت کا احساس دلایا۔انہوں نے کہا کہ چین ۔ پاکستان دوستی بہت گہری ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کا احترام اور مدد کرتا ہے۔ یہاں کے لوگ ہمسائیوں کی مانند ہیں۔پاکستان سے تعلق کے سبب لوگ انہیں پیار سے “پا تھئیے” (پاکستانی بھائی) کہہ کر پکارتے ہیں جس کے سبب انہیں اچھے دوست جیسے سلوک کا احساس ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے  چینی کمپنیاں سی پیک پر کام کی رفتار سے غیر مطمئن ہیں،خالد منصور

تیمور نے ووشی کے ضلع بن ہو بارے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد جیسی ہی ہے جس میں پہاڑ، دریا اور خوبصورت مناظر ہیں۔ مجھے یہاں گھر جیسا احساس ہوتے ہیں۔یہ دریائے یانگسی ڈیلٹا کا مرکز بھی ہے۔ اس کے ارد گرد ایک بہت مضبوط سپلائی چین ہے۔ متعدد کارخانے ہمارے لئے موزوں پرزے تیار کرسکتے ہیں۔ یہ ایک بڑی بندرگاہ کے قریب بھی ہے، اس لیے برآمدات بہت آسان ہیں۔32 سالہ تیمور اب ہیمکو ووشی کمپنی کے جنرل منیجر ہیں جو بنیادی انجینئرنگ اور ڈرلنگ مصنوعات کے ڈیزائن، ترقی اور تیاری کے لئے پرعزم ہے۔

تیمور نے کہا کہ کمپنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور فیکٹری کی اصل عمارت طلب پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ مقامی شعبہ تجارت کے رابطوں کی بدولت، ہماری نئی فیکٹری آسانی سے قائم ہوسکتی ہے۔تیمور کو اس بات پربھی فخر ہے کہ یہ کمپنی بی آر آئی کی مشترکہ تعمیر میں شامل ہے اور اس میں شرکت کا مکمل احساس ہے۔تیمور نے بتایا کہ ہماری زیادہ تر مصنوعات انجینئرنگ لوازمات میں استعمال ہوتی ہیں، اور ہمارے متعدد صارف بی آر آئی سے متعلق منصوبوں کی تعمیرمیں شامل ہیں۔ کمپنی کی مصنوعات بی آر آئی کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک کو فروخت کی جاتی ہیں۔

تیمور نے بتایا کہ 2023 میں مجموعی فروخت 7 کروڑ یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ہیمکو نے بی آر آئی کے 10 برس کے دوران تیز رفتار ترقی کے دور کا آغاز کیا اور انہیں مستقبل میں ترقی کی امید ہے۔تیمور کو امید ہے کہ آئندہ 10 سال کے دوران وہ چین میں سخت محنت کرتے رہیں گے اور زیادہ سے زیادہ ترقی کریں گےاور یہ بھی دیکھیں گے کہ ہیمکو بی آر آئی کے ساتھ چین۔ پاکستان دوستی کو فروغ دینا جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیے  قوموں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، علیزہ ریحان
Back to top button