بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پولیس پتہ کرے کہ کراچی سے چوری گاڑیاں اور موبائل فون جاتے کہاں ہیں؟ صدر مملکت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے اور نادرن بائی پاس پر باڑھ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس پتہ کرے کہ کراچی سے چوری گاڑیاں اور موبائل فون جاتے کہاں ہیں؟سندھ امن و امان کی صورت حال پر صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت چیف منسٹر ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ پولیس اور ڈی جی رینجرز بھی شریک ہوئے۔صدر آصف علی زرداری نے  کچے کے ڈاکوؤں سے نمٹنے کے لیے سندھ، پنجاب، بلوچستان سہ فریقی انتظام بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر ترقیاتی کام شروع کروائیں۔صدر مملکت نے یہ بھی کہا کہ جن ملکوں میں اسٹریٹ کرائم ہیں، وہاں اس کی کوئی وجوہات بھی ہیں، کراچی میں جرائم کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔آصف علی زرداری نے اسکولوں میں منشیات کی لعنت کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس میں صدر مملکت کو دی گئی بریفنگ میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم روکنے کے لیے شاہین فورس فعال کردی۔ پولیس کو 168 گاڑیاں اور 120 موٹر سائیکلیں دی ہیں۔ پولیس مدگار ون فائیو کی ازسرِ نو تشکیل کردی۔

 کچے کے معاملے پر بریفنگ میں آئی جی سندھ نے صدر کو بتایا کہ پولیس نے پچھلے 4 ماہ میں کچے کے 63 ڈاکو ہلاک اور 418 گرفتار کیے۔ 609 افراد کو اغواء ہونے سے پہلے بچایا گیا جبکہ 103 مغوی بازیاب کروائے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ 20 کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔ کچے میں آپریشنز کے دوران 17 پولیس اہل کار شہید اور 27 جوان زخمی ہوئے۔ڈی جی رینجرز سندھ نے صدر کو بریفنگ دی کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے 48 کیسز میں 49 افراد جان سے گئے۔ 27 کا سراغ لگا کر 43 ملزمان پکڑ لیے جبکہ 13 ملزمان مقابلوں میں مارے گئے۔

مزید پڑھیے  9/11 سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنے کا حکم
Back to top button