بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

نواز شریف کے عشائیہ میں میری عدم شرکت کو ایشو نہ بنایا جائے، مریم نواز

مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم نواز نے کل شہباز شریف کے دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کر نے کے حوالے سے کہا ہے کہ جہاں شہباز شریف موجود ہوں وہاں میری موجودگی کی ضرورت نہیں ہے اس کا ایشو نہ بنایا جائے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کل شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جماعتوں کو دیے گئے عشائیے میں عدم شرکت سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ وہ قائد حزب اختلاف ہیں اور انہوں نے پارلیمینٹیرینز کے لیے عشائیہ دیا تھا اور میں رکن پارلیمان نہیں ہوں.

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کل جو عشائیہ دیا وہ پی ڈی ایم کا نہیں تھا بلکہ بطور اپوزیشن لیڈر اپنے فرائض کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے منعقد کیا تھا، وہ بجٹ سے متعلق منصوبہ بندی کے لیے تھا اس سے پی ڈی ایم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اور مسلم لیگ (ن) کا آج بھی وہی موقف ہے جو کل شاہد خاقان عباسی صاحب سے کہا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے شہباز شریف کی سربراہی میں ممکنہ نئے اتحاد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کسی نئے اتحاد کی تردید کی اور کہا کہ پی ڈی ایم موجود ہے اور پی ڈی ایم نے رمضان المبارک کے بعد اگلے لائحہ عمل کے لیے اجلاس کا فیصلہ کیا تھا جو آئندہ چند روز میں ہوگی اور اس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا کرنا ہے.

تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال کے جواب میں رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے ہمیں پنجاب میں نمبرز کی ضرورت نہیں ہمارے پاس نمبر سے زیادہ اراکین موجود ہیںایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی میڈیا ٹاک میں نے نہیں سنی لیکن عدالت میں مجھ سے سوال کیا گیا جس کہ میں یہ جواب دیا کہ شاہد خاقان عباسی نے وہی موقف پیش کیا جو مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے، جو میرا اور پی ڈی ایم کا موقف ہے.

انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری ہوئے تھے ان کا جواب ابھی تک نہیں آیا تو جب وہ جواب آجائے گا تو بیٹھ کر دیکھیں گے کہ اس کا کیا کرنا ہے ایک اور سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ جو حکومت کی جانب سے اعداد و شمار کا ہیر پھیر کر کے شرح نمو بتائی جارہی ہے وہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود ان کے اپنے لوگ ماننے کو تیار نہیں ہیں، حفیظ پاشا نے کہا کہ یہ ناممکن ہے.

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ اعداد و شمار سے ہٹ کر شرح نمو کا اگر حقیقی پیمانہ دیکھنا ہے تو آئیں میرے ساتھ لوگوں کے گھروں میں بازاروں میں چلیں، کس طرح ہر طبقہ مہنگائی سے متاثر ہے چاہے وہ امیر طبقہ ہو اور غریب تو بالکل پِس گیا ہے، آئیں میرے ساتھ چلیں اور دیکھیں کہ لوگوں کے گھروں میں، ان کی آمدن میں کیسی ترقی ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ عوام تباہ حال ہوگئے ہیں، جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں، بازاروں میں جائیں اور وہ 2 چار اسٹال فکس میچ نہ ہو، کسی سبزی منڈی میں چلیں، کسی کریانہ کی دکان پر کسی غریب کے گھر میں چلیں اور دیکھیں وہاں حالات کیا ہیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ مہنگائی نے کس طرح لوگوں کی زندگیوں کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے.

یہ بھی پڑھیے

Back to top button