
پیرعبدالصمد انقلابی کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں ترکیہ کے صدر اور پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانے پر شکریہ
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کے سربراہ و مجاہد ملت اور اسیرِزندان پیرعبدالصمد انقلابی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے حالیہ اجلاس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بھرپور سفارتی آواز اٹھانے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی واشگاف حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دوران جہاں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا، وہاں پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی متحرک سفارت کاری کے ذریعے کشمیریوں کے موقف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ صدر رجب طیب اردن عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا کشمیری عوام کی جدوجہد کے لئے ایک بڑی اخلاقی حمایت ہے۔صدر رجب طیب اردوان نے جنرل اسمبلی کے فورم سے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر سمیت تمام حل طلب تنازعات کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی چارٹر کے دائرہ کار میں لایا جانا چاہیے۔ سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے ترکیہ کی اس دیرینہ اور مخلصانہ اصولی پوزیشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر اردوان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل اور دیگر سفارتی ملاقاتوں میں یہ مؤقف دہرایا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیر حل شدہ چھوڑنا خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف کشمیری عوام کی خواہشات اور استصوابِ رائے کے مطابق ہی ہونا ممکن ہے۔ انہوں نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات (جیسے اگست 2019 کی تبدیلیاں) کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ کشمیری قیادت اور حریت پسند حلقوں نے اس بات پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ جب بھی بھارت عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، پاکستان اور ترکیہ جیسے برادر ممالک مظلوم کشمیریوں کی مضبوط سفارتی آواز بن کر سامنے آتے ہیں۔














