بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

گائے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جاتارہا ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے

مجاہد ملت اور اسیری زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے اس حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی ہے

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئرہنمااور اسلامی تنظیم ازاری جموں کشمیر کے سربراہ و مجاہد ملت اور اسیری زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے سری نگر سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں گائے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ سن 2014میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں گائے کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات میں درجنوں مسلمان مارے جاچکے ہیں۔ سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ گائے کے تحفظ کی آڑ میں ہندوتوا تنظیموں کے مبینہ انتہا پسندوں کو سرکاری تربیت اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ہم اس حکومتی اقدام کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما و مجاہدملت اور سیر زندان پیر عبد الصمد انقلابی نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت میں گائے کے تحفظ کے نام پر بننے والے انتہا پسند گروہوں کو ریاستی سرپرستی دی جا رہی ہے، جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہیں۔ مجاہد ملت اور اسير زندان پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ ہندوتوا نظریے کے تحت کام کرنے والے غنڈہ عناصر کو سرکاری تحفظ حاصل ہے۔جوگائے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس عمل کو اکثریتی بالادستی قائم کرنے اور اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے بھارت کی مختلف ریاستوں میں گائے کے نام نہاد محافظوں کی تنظیمیں سرگرم ہیں۔مجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قانون کے نفاذ کی آڑ میں انتہا پسند ہندوتوا گروہوں کو غنڈہ گردی اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کھلی چھوٹ اور سرکاری سرپرستی دینے کے برابر ہے۔ جن پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی تشویش کا اظہار کرتی آئی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button