
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کی دو ماہ سے پنشن بند، فوری ادائیگی کا مطالبہ
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین نے گزشتہ دو ماہ سے پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ سے فوری نوٹس لینے اور زیرِ التوا پنشن کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کو 2006 سے باقاعدگی کے ساتھ پنشن ادا کی جا رہی ہے اور اب تک آڈیٹر جنرل آف پاکستان، کمرشل آڈیٹرز، وزارت خزانہ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے اس نظام پر کوئی اعتراض یا منفی ریمارکس سامنے نہیں آئے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 34ویں بورڈ اجلاس میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق یکم جولائی 2025 سے کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم کی منظوری دی گئی، جس کے تحت حاضر سروس ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے ماہانہ 10 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق یہ اسکیم یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد مستقل بنیادوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین پر لاگو ہونی چاہیے، تاہم موجودہ پنشنرز پر بھی کٹوتیاں نافذ کی گئی ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے تیسری اور چوتھی سہ ماہی کے گرانٹس پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فنڈز جاری کرنے کے لیے ازسرِ نو مختص کیے جانے کے نتیجے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث پنشنرز کو گزشتہ دو ماہ سے پنشن ادا نہیں کی جا سکی۔
ریٹائرڈ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کی زیرِ التوا پنشن فوری ادا کی جائے، آئندہ پنشن کی باقاعدہ اور بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور ان کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ کیا جائے۔















