
صدر مملکت اور وزیراعظم کا کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔
یومِ الحاقِ پاکستان کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر مملکت اور وزیراعظم نے کہا کہ 19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے منظور کی گئی تاریخی قرارداد کشمیری عوام کی پاکستان سے الحاق کی خواہش کی آئینہ دار تھی، جس میں ڈوگرہ حکمرانوں سے عوامی امنگوں کا احترام کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یومِ الحاقِ پاکستان، پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان موجود گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود مسئلہ جموں و کشمیر کئی دہائیوں سے حل طلب ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھنا اور انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیاں شدید تشویش کا باعث ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کا حامی رہا ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، کیونکہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جرات، ثابت قدمی اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔















