
ملک بھر میں اے آئی تعلیم، تحقیق اور جدت کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، رانا مشہود
اقوام متحدہ میں پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اشتراک سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے سے متعلق حکومت پاکستان کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو اے آئی پر مبنی معیشت کے لیے نوجوانوں کو تیار کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان کے طویل المدتی مصنوعی ذہانت کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین اور 10 ہزار اے آئی تربیت کار تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اے آئی تعلیم، تحقیق اور جدت کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عبدالرؤف عبدالرؤف زادہ نے پائیدار ترقی کے فروغ میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈیجیٹل تقسیم کے خاتمے کے لیے مساوی رسائی، استعداد کار میں اضافے اور عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کو منصفانہ انداز میں سب تک پہنچانے اور شمولیت، مضبوطی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مضبوط عالمی شراکت داریوں کی ضرورت ہے۔















