بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 89 گرانٹس کی منظوری دے دی

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں سے متعلق 89 مطالباتِ زر (گرانٹس) کی منظوری دے دی۔

یہ مطالباتِ زر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں پیش کیے، جن پر کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی۔

منظور شدہ گرانٹس میں دفاع، خارجہ امور، موسمیاتی تبدیلی، تجارت، مواصلات، تعلیم، صحت، انسانی حقوق، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریلوے، آبی وسائل، سائنس و ٹیکنالوجی، پارلیمنٹ، سپارکو اور دیگر اہم وزارتوں و اداروں کے اخراجات شامل ہیں۔

دریں اثنا، قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن سے متعلق 18 مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 90 کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں۔

کٹوتی کی تحاریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور اس کی رقم گزشتہ مالی سال کے برابر رکھی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی بیوروکریسی اصلاحات سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دے چکی ہے، جن کی جلد وزیراعظم سے منظوری لی جائے گی۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی معاونت سے پاکستان کو زراعت، صنعت، معدنیات اور دیگر شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری متوقع ہے۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button