
سال 2026 میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بھیس میں 92000 سائبر حملوں کا انکشاف: کیسپرسکی
عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی نے انکشاف کیا ہے کہ جنوری سے مئی 2026 تک کیسپرسکی کے سلوشنز نے دنیا بھر میں 92 ہزار سے زائد ایسے حملوں کا پتا لگایا جو مصنوعی ذہانت کی مقبول خدمات اور مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں کے بھیس میں کیے گئے تھے۔ سائبر مجرموں نے صارفین کو نقصان دہ فائلیں ڈاؤن لوڈ کروانے کے لیے قابلِ اعتماد برانڈز کا استعمال کیا، جبکہ جعلی چیٹ جی پی ٹی ایپلی کیشنز تمام دریافت شدہ حملوں کا 49 فیصد تھیں، جبکہ کلاڈ اور جیمنی میں سے ہر ایک کا حصہ 18 فیصد رہا۔
سال کے آغاز سے اب تک کیسپرسکی کے محققین نے 15 ہزار سے زیادہ ایسے نقصان دہ پروگراموں کے نمونے شناخت کیے ہیں جو خودکار مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کا روپ دھارے ہوئے تھے، جن میں تیزی سے مقبول ہونے والے اوپن کلا جیسے جعلی ٹولز بھی شامل تھے۔ ان نمونوں میں بینکاری چوری کرنے والے پروگرام، جاسوسی پروگرام، کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے ٹولز اور ایسے نقصان دہ پروگرام شامل تھے جو مزید نقصان دہ اجزا نصب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مئی 2026 میں کیسپرسکی کی عالمی تحقیق اور تجزیاتی ٹیم نے سلور فاکس نامی مستقل خطرہ پیدا کرنے والے گروہ سے منسلک ایک نئی مہم بھی بے نقاب کی۔ اس کارروائی میں حملہ آوروں نے ونڈوز، میک او ایس اور لینکس کے لیے جعلی کلاڈ مصنوعی ذہانت ایپلی کیشنز تقسیم کیں جس سے حملہ آوروں کو طویل مدت تک نظاموں اور حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو جاتی تھی۔
کیسپرسکی کی عالمی تحقیق اور تجزیاتی ٹیم سینئیر رکن دمتری گالوف نے کہا:“اداروں میں مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں کے متعارف ہونے سے اعتماد کی نوعیت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہر خودکار عمل مختلف نظاموں اور معلومات کے تبادلوں کی ایک وسیع زنجیر کا حصہ بن جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سیکیورٹی اب صرف آخری صارف کے آلات کے تحفظ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس بات کو کنٹرول کرنا بھی ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے باہم مربوط عملوں میں ذہانت، اجازتیں اور فیصلے کس طرح آگے منتقل ہوتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا:“صارفین کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حملہ آور مقبول مصنوعی ذہانت خدمات کو بطور لالچ استعمال کر کے متاثرین کی خفیہ معلومات اور رقوم چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ خطرات کے منظرنامے کی مسلسل تبدیلی کو مدِنظر رکھتے ہوئے قابلِ اعتماد حفاظتی حل ڈیجیٹل زندگی کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔”
کیسپرسکی اداروں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی کارپوریٹ بنیادی ساخت کو مختلف خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیسپرسکی نیکسٹ جیسے حل استعمال کریں جو حقیقی وقت میں تحفظ، خطرات کی نگرانی، تفتیش اور جدید ردِعمل کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہوں۔انفرادی صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف ان مصنوعی ذہانت خدمات کا استعمال کریں جو معروف کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جاتی ہوں اور جن کا رازداری اور سیکیورٹی کے حوالے سے مضبوط ریکارڈ ہو۔ اپنے معلوماتی تحفظ کے لیے ایسا حفاظتی حل استعمال کریں جو جعلسازی پر مبنی ویب سائٹس تک رسائی کو روکے اور نقصان دہ پروگراموں کی تنصیب کو ناکام بنائے۔















