
جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری،زرعی خود کفالت، ترقی کا نیا باب رقم
گرین پاکستان انیشی ایٹو(جی پی آئی) نے زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی سہولت کاری اور غذائی خود کفالت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ملک میں جدید زراعت کے فروغ کی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
جی پی آئی کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور اسمارٹ فارمنگ کے نظام متعارف کروائے گئے ہیں، جن کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید زرعی رہنمائی اور بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
لِمز پاکستان، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید زرعی مشاورت کے نظام نے کسانوں کی استعداد کار اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس منصوبے کی معاونت سے بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدی مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے ملکی معیشت اور زرعی شعبے کو تقویت مل رہی ہے۔
مقامی کسانوں نے جی پی آئی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گرین ایگری مالز کے قیام سے کھاد، بیج، زرعی ادویات اور جدید مشینری مناسب قیمتوں پر ایک ہی جگہ دستیاب ہو گئی ہے، جس سے ان کے وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
کسانوں کے مطابق جی پی آئی کے انقلابی اقدامات زرعی ترقی، کسانوں کی فلاح اور دیہی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پینٹیرا کمپنی کی آمد سے بنجر علاقوں میں ہریالی، بہتر سہولیات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی ممکن بنائی گئی ہے، جبکہ جدید زرعی سہولیات نے ان کے کام کو مزید آسان اور موثر بنا دیا ہے۔
پنجگور کے کسانوں نے کہا کہ علاقے کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور اس اقدام سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو بھرپور فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے ترقیاتی اور زرعی منصوبے جاری رکھے گی تاکہ زرعی پیداوار میں مزید اضافہ اور دیہی خوشحالی کا خواب حقیقت بن سکے۔
کسانوں نے اس بات پر زور دیا کہ پسماندہ علاقوں کے غریب کاشتکاروں کے لیے سرکاری تعاون، زرعی زمینوں کی فراہمی اور شمسی توانائی کے منصوبے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوں گے اور ملک کو زرعی خود کفالت کی منزل کے قریب لے جائیں گے۔















