
امن کے لیے پاکستان امریکا اور ایران سے متحرک رابطے میں ہے: دفتر خارجہ
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ فعال رابطے میں ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ سفارت کاری کا عمل رکا نہیں بلکہ جاری و ساری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سفارتی ذرائع سے ہونے والی ہر بات ایمانداری کے ساتھ دوسرے فریق تک پہنچائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاملے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے گا اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بنوں کے قریب جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً انگور اڈہ میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے تحفظ اور مزید واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کشمیری رہنما یاسین ملک کی مسلسل حراست اور ممتاز کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ کے خلاف تین دہائیوں پرانے مقدمے میں دوبارہ گرفتاری اور مسلسل توسیع پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دے کہ شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور دیگر تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے جنہیں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی آواز اٹھانے پر قید رکھا گیا ہے۔
ترجمان نے بھارتی غیر قانونی اقدام کی بھی شدید مذمت کی جس کے تحت جامعہ سراج العلوم پر پابندی اور اسے سیل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس معتبر ادارے کو نشانہ بنانا کشمیری عوام کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو کمزور کرنے کی ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اسلاموفوبیا میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتی ہے جو بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں ایک انتہاپسند ہندوتوا ایجنڈے کی عکاس ہے۔















