بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بے بنیاد مقدمہ بازی پر دودرخواست گزاروں کو ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور کیس کا مکمل خرچ اداکر نے کا حکم

 بے بنیاد مقدمہ بازی عدالتی نظام کو مفلوج کررہی ہے،ہم نے بے بنیاد مقدمہ بازی کے فلو کو ختم کرنا ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بے بنیاد مقدمہ بازی پر دودرخواست گزاروں کو ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور کیس کا مکمل خرچ اداکر نے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایک زمین کے تنازعہ پر اوردوسرابیوی کو حق مہر کی رقم ادانہ کرنے پر جرمانہ کیا۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کو زمین فوری طور پر مالکان کے حوالہ کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ متعلقہ ریونیو حکام کو فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے دوسرے درخواست گزار کوپانچ لاکھ روپے حق مہر کی رقم اور ایک لاکھ روپے جرمانہ 30روز میں اہلیہ کو اداکرنے کا حکم دیا ہے اورعدم ادائیگی پر فیملی کورٹ کودرخواست گزار کی اگر جائیدادہوتووہ بیچ کر حق مہر کی رقم اداکرنے کا حکم دیا ہے۔

جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بے بنیاد مقدمہ بازی عدالتی نظام کو مفلوج کررہی ہے، یہ کسی بے بنیاد مقدمہ بازی پر مشتمل ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔ ماتحت عدالتوں نے درخواست گزار کو جرمانہ نہیں کیا تاہم سپریم کورٹ بھاری جرمانہ کرنے سے نہیں چجکچائے گی، ہم نے بے بنیاد مقدمہ بازی کے فلو کو ختم کرنا ہے، کیسز میں غیر ضروری دفاع لیا جاتا ہے۔  اگر آپ کو پاکستان کا قانون پسند نہیں تو کم از کم قرآن مجید کے احکامات پر ہی عمل کرلیں، حق مہر بیوی کا حق ہے اسے کیوں نہیں دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سوموار کے روز مختلف کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے غلام فریدکی جانب سے دولاں بی بی اوردیگر کے خلاف زمین کے تنازعہ کے حوالہ دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے سید سیرت حسین نقوی بطوروکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ ایکسپرٹ کی رائے آئی کہ زمین کی فروخت کے کاغذات پرمدعا علیہ خاتون کا فنگر پرنٹ نہیں۔ چیف جسٹس نے درخواست گزارکے وکیل سے استفسار کیا کیا بیچااورکیا خریدا، کچھ بتائیں گے نہیں، ہرسوال کو دومرتبہ دوہرانا پڑتا ہے۔اس پر وکیل نے بتایا کہ دوکنال 19مرلے زرعی زمین13جون1984میںخریدی تھی،زمین موجودہ درخواست گزار کے لواحقین کے پاس ہے۔ چیف جسٹس نے حکم لکھواتے ہوئے قراردیا کہ مدعا علیہ نے 6جون2008کو مقدمہ دائر کیا،6نومبر2014کوکس ڈگری ہوا۔ مدعا علیہ کو کیس دائر کئے ہوئے 15سال گزرگئے ہیں۔ درخواست گزار جائز یا ناجائزہرطریقہ سے زمین پر قبضہ برقراررکھنا چاہتا ہے۔ تین عدالتوںنے درخواست پر فیصلہ کیا پھر بھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ آنا مناسب سمجھا۔ تینوں عدالتوںنے درست طور پر فیصلہ کیا اور تھوڑی جائیداد ہونے کی وجہ سے درخواست گزار پر جرمانہ عائد نہیں کیا۔ ہم بے بنیاد مقدمہ بازی کا نوٹس لیتے ہوئے درخواست گزار کو جرمانہ کریں گے۔ عدالت نے درخواست گزار پر مقدمہ کے مکمل اخراجات اور ایک لاکھ روپے  جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ زمین فوری طور پر مالکان کے حوالہ کریں اورحکم کی کاپی متعلقہ علاقہ کے ریونیو آفیسر کو بھجوائی جائے تاکہ وہ عدالتی حکم پر عمل کریں۔ جبکہ بینچ نے بھلوال سے تعلق رکھنے والے رہاشی خالد پرویز کی جانب سے ثمینہ اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے چوہدری ذوالفقار علی ہرجان بطور وکیل لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے زریعہ پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ درخواست گزارشادی شدہ ہیں یا طلاق ہوگئی ہے۔ وکیل نے بتایا کہ شادی برقرارہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا نکاح نامہ میں لکھے گئے اندولطلب کے الفاظ کامطلب ہے کہ شوہر طلب کرنے پر بیوی کو حق مہر اداکرے گا۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ پیسے خاتون کو دیئے کہ نہیں۔ وکیل کا کہنا تھا خاتون کو ماہانہ پانچ ہزار روپے خرچ دے رہے ہیں جس میں عدالتی حکم پر ہر سال 10فیصد اضافہ ہوتا ہے جبکہ پانچ لاکھ روپے ادانہیں کئے۔ وکیل کی جانب سے وقت دینے کی استدعا پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانچ لاکھ روپے کا پے آرڈر بنا کر لے آئیں پھر ہم وقت دے دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفار کیا کہ انہوں نے لاء کہاں سے کیا ہے۔اس پر وکیل نے بتایا کہ یونیورسٹی لاء کالج ملتان سے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم آپ کی طرح قابل وکیل نہیں اس لئے ہمیں سارے سیکشن یاد نہیں اورہمیں کتاب اٹھا کرپڑھنا پڑتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ساڑھے 6سال گزر گئے اور پانچ سال میں رقم دوگنا ہوجاتی ہے اس لئے ہم اس رقم کو دوگنا کر کے 10لاکھ روپے کردیتے ہیں۔ بلاوجہ عدالتوں کا وقت ضائع کرتے ہیں، پانچ لاکھ حق مہر ہے وہ بھی نہیں دے رہے۔ درخواسست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کی مدعا علیہ سے 10فروری2017کو شادی ہوئی تھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ حق مہر اس صورت میں دیا جاسکتا ہے کہ اگر طلاق ہوجائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج بھلوال کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے برقراررکھا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھوایا کہ درخواست گزار ماتحت عدلیہ کے فیصلوں میں کسی غلطی کی نشاندہی نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے پوچھنے پر وکیل نے بتایا کہ ان کے موئکل کی دوبیویاں ہیں۔ چیف جسٹس کا درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حق مہر اسلامی تصور ہے جو کہ ادا نہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ چیف جسٹس کا کہناتھا کہ بے بنیاد مقدمہ بازی سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ، کیس کو ساڑھے 6سال ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بے بنیاد مقدمہ بازی عدالتی نظام کو مفلوج کررہی ہے، یہ کسی بے بنیاد مقدمہ بازی پر مشتمل ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔ ماتحت عدالتوں نے درخواست گزار کو جرمانہ نہیں کیا تاہم سپریم کورٹ بھاری جرمانہ کرنے سے نہیں چجکچائے گی،ہم نے بے بنیاد مقدمہ بازی کے فلو کو ختم کرنا ہے، کیسز میں غیر ضروری دفاع لیا جاتا ہے۔  اگر آپ کو پاکستان کا قانون پسند نہیں تو کم از کم قرآن مجید کے احکامات پر ہی عمل کرلیں، حق مہر بیوی کا حق ہے اسے کیوں نہیں دیا، درخواست گزار کی کتنی بیویاں ہیں۔ اس پر وکیل نے بتایا کہ دو بیویاں ہیں ، مدعا علیہ دوسری بیوی ہیں، انہوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی تاہم طلاق کے بعد میں نے خالہ کے کہنے پر مدعا علیہ سے نکاح کیا۔ چیف جسٹس نے نکاح نامہ میں لکھے 5 لاکھ حق مہر ساڑھے 6 سال تک نہ ادا کرنے پر وکیل درخواست گزار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اب دس لاکھ ادا کرنے کا حکم جاری کر دیں تاکہ آئندہ ایسے کیسیز عدالت میں نہ لائیں۔ اس پر وکیل کا کہنا تھاکہ میرا چیف جسٹس کے سامنے پہلا کیس ہے اس لئے مجھے کیس واپس لینے کی اجازت دی جائے۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکیل کو جزباتی نہیں بلکہ بامقصد ہونا چاہیئے۔ چیف جسٹس کا درخواست گزار نے مدعا علیہ کو ساڑھے چھ سال عدالتوں میں گھسیٹا اور عدالتوں کا بھی وقت ضائع کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے نہیں ہوگا وکیل صاحب جب مرضی آپ کیس واپس لے لیں ،6 سال آپ نے بیوی کو اسکا حق نہیں دیا اور اب آپ انصاف کیلئے سپریم کورٹ آئے ہیں ،اب آپکو انصاف تو ملے گا انصاف دونوں طرف ملنا چاہیے ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم بھاری جرمانہ کرنا چاہتے تھے لیکن وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ درخواست گزار ایک ماہ میں رقم اداکردے گا اس لئے ایک لاکھ روپے جرمانہ کررہے ہیں۔ کیونکہ پیسے کی قدروقت گزرنے کے ساتھ ، ساتھ کم ہورہی ہے اس لئے ایک روپے جرمانہ اور کیس کا پوراخرچ درخواست گزار پر عائد کرہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ میں حق مہر ادا کرکے فیملی کورٹ کو آگاہ کریں اور دستاویزات جمع کروئیں اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو درخواست گزار کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائے جائے ۔

مزید پڑھیے  سیالکوٹ واقعے پر ریاست کا ردعمل بزدلانہ رہا،ایچ آر سی پی
Back to top button