بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعلیم

آزاد کشمیریونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف جیالوجی کے زیر اہتمام جیولوجیکل فیلڈ ٹریننگ کیمپ اختتام پذیر

یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیرکے انسٹیٹیوٹ آف جیالوجی کے زیر اہتمام جیولوجیکل فیلڈ ٹریننگ کیمپ 2023 کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے فیلڈ ٹریننگ کیمپ میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، یونیورسٹی آف سوات،ملٹری کالج آف انجینئرنگ رسالپور ودیگر نامور جامعات واداروں کے طلباء و فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔

جامعہ کشمیر کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق جیولوجیکل فیلڈ ٹریننگ کیمپ 2023 کی کامیاب تکمیل کے حوالہ سے ایک شاندار اختتامی تقریب کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف جیالوجی کنگ عبداللہ کیمپس چھترکلاس میں کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی تھے۔

اختتامی تقریب میں پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد رستم خان، پروفیسر خواجہ محمد بشارت، ڈائریکٹر ORIC ڈاکٹر عبدالرؤف جنجوعہ، سید کامران علی، ڈاکٹر صفی الرحمان، اور دیگر جامعات سے کیمپ میں شریک طلباء و فیکلٹی ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں انسٹی ٹیوٹ آف جیالوجی یونیورسٹی آف آزادجموںوکشمیر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فاروق خان نے انتہائی کامیاب جیولوجیکل فیلڈ ٹریننگ کیمپ 2023 کا ایک جامع جائزہ پیش کیااور شرکاء کو اس کیمپ کے اغراض و مقاصد اور ہونے والی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دیگر جامعات سے اس فیلڈ کیمپ میں شرکت کرنے والے طلباء و فیکلٹی ممبران کا جامعہ کشمیر پر اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ سال جیولوجیکل فیلڈ ٹرینگ کیمپ کو مزید موثر انداز میں ترتیب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیے  ماہر تعلیم فیض الحسن ملک کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وومن تحصیل نور پور تھل کا بھی اضافی چارج دے دیا گیا

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد رستم خان، پروفیسر خواجہ محمد بشارت، ڈاکٹر تہمینہ ،ڈاکٹر صفی الرحمان، اور دیگر جامعات سے کیمپ میں شریک طلباء و فیکلٹی ممبران نے کہا کہ فیلڈ اور جیالوجی کا چولی دامن کا ساتھ ہے انہوں نے کہا کہ اب بہت سی جامعات میں فیلڈ ورک کو لازمی قراردے دیا گیا ہے اور آزادکشمیر میں جیولوجیکل سائٹس ہر حوالے سے طلباء و فیکلٹی ممبران کو تحقیق کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔

مقررین نے جامعہ کشمیر کے شعبہ جیالوجی کی شاندار تاریخ اور خدمات پر روشنی ڈالی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی کا شکریہ ادا کیا جن کے بھرپور تعاون سے شعبہ جیالوجی ترقی کی مناز ل طے کرتا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیلڈ کیمپ وقت کی اہم ضرورت ہیں جو طلباء اور فیکلٹی ممبران کو تحقیق کے حوالے سے بہترین ذرائع اور مواد مہیا کرتے ہیں۔نامورجیالوجسٹ پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد رستم خان اور سابق ڈائریکٹر انسٹیٹوٹ آف جیالوجی پروفیسر خواجہ محمد بشارت نے اپنی تقاریر میں کہا کہ دنیا اب آئل سے منرلز کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت ملک ہے جس میں معدنی وسائل بہتات میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہیکہ جیالوجی کے طلباء و فیکلٹی ممبران ان موضوعات کو اپنی تحقیقی مقالوں میں شامل کریں اور اس طرح کے فیلڈ کیمپ اس حوالے سے بھرپورمعاونت فراہم کرسکتے ہیں۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی اختتامی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے کہا کہ جامعات کے قیام کے بنیادی طور پر تین مقاصد ہیں جن میں تدریس، سیکھنے سکھانے کا عمل، تحقیق و تنوع اور کمیونٹی سروسز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہیکہ جامعہ کشمیر میں بہترین تعلیم ماحول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنوع، شراکت داری اور معاشرتی خدمات پر بھی کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کامیاب جیولوجیکل فیلڈ کیمپ کے انعقاد پر  انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی کی فیکلٹی اور انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی اور ہدایت کی کہ اگلے سال اس کیمپ کو مزید بہتر بناتے ہوئے وادی نیلم میں اس کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے طلباء اور فیکلٹی ممبران اپنی فیلڈ اسائنمنٹ کے ساتھ ساتھ کشمیر کے دلکش مناظر سے بھی لف اندوز ہوتے رہیں۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف جیالوجی کو طلباء کے تعلیمی سفر کو تقویت دینے کے لیے ان کے عزم کی تعریف کی۔

مزید پڑھیے  تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا فیصلہ کرلیا گیا

رئیس جامعہ نے اس کیمپ میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء کو اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے دیکھ کر اپنی خوشی کا بھی اظہار کیا اور شعبہ جیالوجی کی فیکلٹی اور انتظامیہ کے لیے غیر متزلزل حمایت کااعادہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے جیولوجیکل فیلڈ ٹریننگ کیمپ کے تسلسل کے لیے تمام ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انسٹیٹیوٹ آف جیالوجی کے پاس جدید تعلیمی سازوسامان میسر ہے جبکہ کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر کے ساتھ مکانیت کے مسائل سمیت دیگر کئی انتظامی مسائل بھی ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے تعاون سے جلد مزید تعلیمی سازوسامان مہیا کیا جائے گا جس میں شعبہ جیالوجی کے لیے بھی جدید ایکویمپمنٹ موجود ہیں۔

آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے شرکاء کو کیمپ کی تکمیل کے سرٹیفیکیٹس سے نوازا جو کہ ان کے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

 

Back to top button